اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 504
۵۰۴ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے مستورات سے خطابات امر واقعہ یہ ہے کہ خدا نے جو ہر چیز ہمیں عطا کی ہے۔اگر آپ اس پر غور کریں تو اس کی نعمتوں کا احاطہ ایک معمولی سی چیز میں بھی نہیں کر سکتے۔اپنی نظر کو دیکھیں ، اپنے احساسات کو دیکھیں۔کھانے کی لذت، سونگھنے کی لذت، سننے کی لذت شعور کی لذت ، ان میں سے ایک بھی ایسی چیز نہیں جس پر آپ اعلیٰ درجے کے سائنس دان ہونے کے باوجود بھی اس کا احاطہ کر سکیں آج تک سائنس دان نظر کی حیرت انگیز صناعی کا بھی احاطہ نہیں کر سکے۔اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے پیدا کی۔آج تک سائنس دان گویائی کا بھی احاطہ نہیں کر سکے۔کہ کس طرح انسان میں بیان کی طاقت پیدا ہوئی ہے۔اور کس طرح وہ باریک سے باریک مطالب کو بیان کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔آج تک سائنس دان سننے کی قوت کا بھی احاطہ نہیں کر سکے۔اتنا حیرت انگیز نظام ہے کہ اگر آپ غور کریں گی تو آپ حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں گی اور سمجھ نہیں سکیں گی کہ یہ کیا واقعہ ہوا ہے۔آپ میری آواز کوشن رہی ہیں اور جو قریب ہیں ان کو قریب سے آواز آرہی ہے جو دور ہیں ان کو دُور سے آواز آرہی ہے۔جو دائیں طرف ہیں ان کو بائیں طرف سے آواز آرہی ہے۔جو بائیں طرف ہیں ان کو دائیں طرف سے آواز آرہی ہے۔معمولی اُونچ نیچ ہو آواز کا آپ اس کو بجھتی ہیں آواز کے ذریعے فاصلے معلوم ہوتے ہیں۔ایک بچے کی آواز دُور سے اُٹھ رہی ہو۔آپ سب شور میں اس آواز کو سنتی ہیں اور اندازہ کرتی ہیں کہ وہ جگہ ہے جہاں سے اس بچے کی آواز آرہی ہو۔اس پردے کے باہر سے جب جہاز گزرے گا تو آپ کو پتا ہوگا کہ فلاں جگہ سے آواز آرہی ہے۔یہ جو بار یک فرق ہیں یہ کیسے پیدا ہورہے ہیں یہ وہ مضمون ہے۔جس کے اوپر آج تک سائنس دان احاطہ نہیں کر سکے۔کیونکہ کان کے پردوں کے اند را تنے باریک اور حساس خلیے ہیں کہ وہ پر دے ایٹم کے ٹوٹنے کی آواز بھی سُن سکتے ہیں اور اس کے باوجود ساری دنیا کی تمام آوازوں کا تجزیہ بیک وقت کر رہے ہیں۔اور شور میں سے بھی اپنے مطلب کی آواز نکال لیتے ہیں۔فاصلے کا ایسا تعین کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔اتو بھی اندھیرے میں پتوں کے نیچے چھپے ہوئے اُس مینڈک پر حملہ کرے گا جو ذرا سا سر کے گایا چوہے پر حملہ کرے گا۔جو ذرا سا ہلے گا تو سرسراہٹ پیدا ہوگی۔اور رات کے اندھیرے میں محض اپنے کان کی طاقت سے وہ یہ معلوم کرتا ہے کہ کتنے فاصلے پر ہے اور کس جگہ بیٹھا ہوا ہے اور اس کی پرواز بالکل اندھیرے میں آنکھوں کی طاقت کے بغیر بعینہ اس جگہ پہنچتی ہے جہاں وہ چیز چھپی ہوئی ہے اور اس کے پنجے بعینہ اسی جگہ پڑتے ہیں جہاں وہ چیز چھپی ہوئی ہے اور وہ خالی ہاتھ واپس نہیں آتا۔ان پنجوں میں وہ مینڈک یا وہ چوہاوہ اس کے قبضے میں