اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 500 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 500

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۰۰ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء سے حمد اٹھتی ہے، کیسے کیسے الحمدللہ دل سے نکلتا ہے۔لیکن خدا آپ کو بچے سے بھی کم پیارا ہے۔بچہ تو آپ سے وفا بھی نہیں کرتا اور بسا اوقات آپ بڑی ہوں تو آپکو پھینک دیتا ہے ایک طرف بعض دفعہ اپنی بیویوں کی محبت میں اپنی ماؤں کی قدریں چھوڑ دیتا ہے۔بھلا دیتا ہے۔بعض دفعہ مائیں اس پر بوجھ بن جاتی ہیں جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں مگر عجیب بات ہے کہ اس بچے کی خاطر آپ جان فدا کرتی ہیں ،اس کے ڈھونڈنے کے لئے ہمیشہ بے قرار رہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا کوئی خیال دور تک بھی نہیں آتا کہ وہ ہے بھی کہ نہیں۔پس غیب ہے وہ اور اس پر ایمان نہیں ہے۔یہ وہ غیب کا مضمون ہے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔اگر غیب پر ایمان ہو تو خدا تعالیٰ کی غیب کی حقیقت بھی آپ کے سامنے رہے گی۔اگر غیب پر ایمان نہیں ہوگا تو وہ واقعتہ غائب ہو جائے گا۔پس یہ مراد نہیں ہے غیب پر ایمان کی کہ غائب چیز ہے اس سے آپ محبت کرتی ہیں۔غیب پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ غیب اتنا یقینی ہے گویا سامنے کھڑا ہے اور اس پر کامل یقین ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے جو قرآن کریم دیتا ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ تو نماز میں پڑھتے ہیں ایسے لوگ اور قائم کرتے ہیں نماز کو۔اور مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ اس کی خاطر جو کچھ ہم نے دیا ہے وہ آگے خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔تو غیب پر ایمان کا یہ مطلب نہیں کہ فرضی کہانی پر ایمان ہے۔ایمان کا مطلب ہے کہ اتنا یقینی ایمان ہے کہ غیب آپ کے لئے حقیقت بن گیا آپ کو دکھائی دینے لگا اور وہ چیز میں جو آپ کے ہاتھ میں ہیں اُس غیب کی خاطر آپ قربان کرتی چلی جاتی ہیں۔پس اللہ کو اگر سمجھنا ہے تو سورۃ الفاتحہ پر غور کریں اور قرآن کریم پر غور کر کے اس کی صفات حسنہ کا مفہوم سمجھیں اسکا عرفان حاصل کریں الحمد للہ رب العالمین میں اگر آپ غور کریں گی تو آپ کو پتا چلے گا کہ ہر چیز جو آپ کو پیاری ہے اس کا ایک بڑا تعلق ربوبیت سے ہے۔اب دنیا میں جو غاضب بنا ہوا ہو۔مثلاً ایک مالک ہے جس کے ہاں ایک آدمی ملازم ہے۔وہ حسنِ سلوک کرتا ہے اس کے رازق کا ذریعہ ہے۔دیکھیں اس کا اس سے طبعا تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ایک ایسا شخص ہے جس پر کسی کا انحصار ہے وہ اسکو پیسے دیتا ہے، اس کے لئے خرچ کرتا ہے، اس کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔طبعا اس سے ایک محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ایک فقیر کو اپنے عطا کرنے والے سے پیار ہو جاتا ہے۔جب حاصل بھی کر لیتا ہے تو جاتے ہوئے دور سے دعائیں دیتا چلا جاتا ہے۔حالانکہ نہ بھی دیں تو فرق نہیں پڑتا۔تو رب سے محبت ہوا کرتی ہے۔لیکن اگر معلوم ہو کہ رب ہے کون تب محبت ہوتی ہے۔اگر خدا سے رزق حاصل