اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 497
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۹۷ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء محبت کرتا ہے۔اس لئے کہ ماں اس کے لئے ایک عارضی رب بن جاتی ہے۔جب وہ بھوکا ہو، تو وہ چیختا ہے تو وہ مائیں جو دودھ پلانے والی ہیں ان کی چھاتیوں میں اس کی پکار سے دودھ اُتر آتا ہے۔وہ جب دھ سے خالی ہوں تو بھو کی بھی رہیں گی تو بچے کے لئے دودھ کا کوئی انتظام کریں گی۔کیونکہ جب تک بچے کا پیٹ نہ بھرے ان کو چین نصیب نہیں ہوتا۔اس کی ہر ضرورت کا خیال، ان کا بعض دفعہ جنون بن جاتا ہے۔ہراچھا کپڑا دیکھیں تو بچہ یاد آتا ہے۔ہراچھا کھلونا دیکھیں تو بچہ یاد آتا ہے۔غرضیکہ بچے کی ربوبیت پر وہ ہمہ تن مگن ہو کر وقف ہو جاتی ہیں۔لیکن یہ ربوبیت ایک معمولی سی عارضی سی ربوبیت ہے۔جب قحط سالی ہو تو مائیں کچھ نہیں کر سکتیں۔جب پانی زمین کی گہرائیوں میں اتر جائے اور وہ تمام علاقہ پانی سے خالی ہو جائے تو ماں کی محبت بچے کیلئے پانی نہیں لاسکتی۔حضرت ہاجرہ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔وہ جب عرب کے لق و دق صحرا میں اپنے بچے کو لے کر اکیلی رہ گئیں اور بچہ پیاس سے ایڑیاں رگڑنے لگا تو کہاں سے انہوں نے پانی ڈھونڈا۔تو وہ کبھی ایک پہاڑی کی طرف دوڑتی تھیں کبھی دوسری کی طرف نظر ڈالتی تھیں کہ شاید کوئی قافلہ آجائے تو میرے بچے کو پانی نصیب ہو۔مگر نہ ان کی پیاس بجھی نہ بچے کی پیاس بجھ سکی۔پانی نکلا تو بچے کی ایڑیوں سے نکالا ،اس کی رگڑ سے نکلا یعنی اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمایا۔سو ماں کو بچے کی ایڑیوں نے پانی دے دیا۔مگر یہ پانی خدا سے آیا اور رب العالمین اسی کو کہتے ہیں۔پس مائیں تو جب بھوک کا وقت ہو، آپ بھوکی ہوں تو بچے کو کیا دیں گی۔کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔پس وہی رب ہے جو قدیم سے رب ہے جو ہر ربوبیت کے ماخذ پر فائز اور اس کا مالک ہے۔ر ہر ربوبیت کا چشمہ اس سے پھوٹتا ہے۔ساری کائنات اس نے بنائی ہے اور ہماری تمام ضرورتوں کا اس نے اس وقت خیال رکھا جب ہم ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ماؤں سے تعلق تو نو مہینے کا تعلق تھا جس میں ماں جو کچھ ہمیں دے سکتی تھی دیا۔مگر ماں کو وہ کس نے دیا تھا جو اس نے ہمیں دیا۔اگر رب العالمین نہ دیتا تو ماں ساری عمر روتی پیٹتی ترستی رہے۔اسکے بچہ نہیں ہوسکتا۔اس کے رحم میں ایک معمولی سانقص رہ جائے بلکہ بعض دفعہ ڈاکٹروں کو نہ بھی دکھائی دے اگر اللہ عطا نہ کرے تو بچہ نصیب نہیں ہوسکتا۔کئی دفعہ مائیں آتی ہیں، یعنی خواتین شادی شدہ کہ چودہ سال ہو گئے ، پندرہ سال ہو گئے ہیں سال ہو گئے اور یہ غم ہمیں کھائے جارہا ہے بچہ نہیں ہے۔میں پوچھتا ہوں کئی دفعہ بتاتی ہیں کہ یہ نقص نکلا کئی دفعہ بتاتی ہیں کہ وہ نقص نکلا اور کئی دفعہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹروں نے ہر چھان بین کر لی۔جتنا زور چل سکتا تھا لگا لیا