اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 498 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 498

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۹۸ خطاب ۲۴ راگست ۱۹۹۶ء لیکن کوئی بھی نقص نہیں نکلا۔نہ میرے رحم کے اندر کوئی نقص نظر آتا ہے نہ میرے خاوند کے اندر کوئی کمزوری، بچہ نہیں ہوتا۔تو بہت سے مخفی در مخفی راز ہیں۔جن تک ہماری نظر بھی نہیں پہنچتی۔مگر وجہ ضرور ہوا کرتی ہے۔خدا کے سوا اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔پس ہمارے لئے جو سب کچھ غائب ہے۔اُس کا ایک عالم الغیب والشھادہ ہے۔اس عالم الغیب سے تعلق رکھیں گی تو پھر آپ کا غیب شہادت بن جائے گا۔جو نظر سے اوجھل ہے وہ نظر کے سامنے آکھڑا ہوگا۔یہ وہ پہلو ہیں جن پر غور کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی طرف دھیان سچا اور حقیقی دھیان بن کر پھرتا ہے۔پس اسی مضمون کو آپ اور آگے بڑھا کر دیکھ لیں۔مائیں آج ربوبیت کر رہی ہیں کل مر جائیں تو پتہ بھی نہیں لگے گا۔کس پر چھوڑ جائیں گی بچے کو۔یاماں سے بچہ چھین کے کوئی بھاگ جائے تو ان کی ربوبیت کیا کرے گی۔ربوبیت کے لئے اختیار بھی ضروری ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنی ربوبیت پر کامل اختیار ہے۔پس اپنی نظر کو اپنی ماں کی زندگی کے ساتھ محدود نہ کریں اُس سے پرے تو گھما کر دیکھیں۔ماں نے بھی جو کچھ پایا وہ رب سے پایا۔اور خدا جب اپنی ربوبیت کا سایہ اٹھاتا ہے تو ماں بھی بالکل خالی ہو جاتی ہے اس کی گود سے کچھ بھی آپ کو نصیب نہیں ہوتا۔ماں کے رحم سے آپ نے آنکھیں لیں ، ماں کے رحم سے آپ نے کان لئے ، ماں کے رحم سے آپ نے زبانیں لیں ،احساسات لئے ،شعور لیا لیکن اگر اللہ تعالیٰ ماں کے رحم میں ایک باریک سی تبدیلی پیدا کر دے۔اتنی باریک سی تبدیلی جواکثر ڈاکٹروں کو بھی دکھائی نہیں دیتی۔تو بعض بچے بغیر آنکھوں کے پیدا ہو جاتے ہیں۔بعض بغیر کانوں کے پیدا ہو جاتے ہیں، بغیر بولنے کی طاقت کے پیدا ہوتے ہیں۔پس وہ جو مائیں آپ کو دیتی ہیں وہ تو امین ہیں وہ تو خود منگتی ہیں۔اللہ نے انہیں دیا تو وہ آگے چلاتی ہیں۔تو وہ بچے جو ماؤں کی محبت پر آ کر ٹھہر جاتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے اس غیب سے غافل ہو جاتے ہیں۔جو ازل سے چل رہا ہے اور ابد تک ٹھہرا رہے گا۔پس يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کا یہ مضمون ہے۔یہ نہیں کہ خالی ایمان لے آتے ہیں۔غور کرتے ہیں کہ وہ غیب ہے۔اور جب غور کرتے ہیں تو غیب حقیقت بن کر آپ کے سامنے ابھرنے لگتا ہے۔وہ مزید غیب نہیں رہتا وہ ایک ایسا وجود بن کر آپ کے سامنے ابھرتا ہے جس سے زیادہ قطعی اور یقینی وجود ہوہی نہیں سکتا۔پس اللہ تعالیٰ سے اگر محبت کرنی ہے تو اس پر غور تو کریں۔اس کی حقیقت سے تعارف تو حاصل کریں۔اس کے بغیر آپ کو کیسے محبت ہو جائے گی۔پس محبت کے لئے شکر ضروری ہے اور شعور