اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 496

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۹۶ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء ہیں جن سے سفر کا آغا ز مشکل ہوتا ہے کیونکہ ظاہری طور پر ان میں کوئی ایسی کشش کی بات نہیں ہوتی۔جو آپ کے دل کو موہ لے لیکن ان کی اعلیٰ صفات ان کا حسن خلق ، ان کا وقار، ان کے دل کی عظمت ، ان کی آپ کے لئے قربانیاں، رفتہ رفتہ آپ کے دل کو اس قوت کے ساتھ اپنی طرف کھینچے لگتی ہیں کہ جو آغاز ایک سرسری سا آغا ز تھا۔وہ ایک بہت ہی گہری محبت میں منتج ہو جاتا ہے۔اسی مضمون کے متعلق ایک شعر ہے جو میں بارہا آپ کے سامنے پڑھ چکا ہوں اور جتنی دفعہ بھی پڑھیں وہ پرانا نہیں ہو سکتا۔یہ مضمون ایسا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے کہ : جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم کو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا عجیب انسان ہو، جب بھی تم ملتے ہو ایک نیا عالم ظہور میں آتا ہے۔ایک نئی حسن کی باتیں ہیں جن سے پہلے شناسا نہیں تھا۔وہ تمہاری ذات میں اُبھرتی ہیں۔تو تیری واقفیت کا مرحلہ تو طے ہی نہیں ہوا۔تجھے جب ملتا ہے ایک نیا مرحلہ اُبھرتا ہے ایک نیا تشخص اُبھرتا ہے۔ایک نئی واقفیت نکلتی ہے۔جس شخص نے بھی انسانوں کے متعلق یہ شعر کہا، جھوٹ کہا لیکن خدا کے متعلق اس سے زیادہ سچا شعر نہیں ہو سکتا جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا پس اب شناسائی کا سفر طے کرنے کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔شناسائی کا سفر اختیار کئے بغیر آپ خدا تعالیٰ سے محبت کر ہی نہیں سکتے یا خواتین ہیں تو کر ہی نہیں سکتیں۔شناسائی کے سفر کا آغاز در حقیقت سورۃ فاتحہ سے ہوتا ہے۔اور سورۃ فاتحہ کے متعلق جو میں بارہا متوجہ کرتا ہوں خواتین کو بھی ، مردوں کو بھی ، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت سورۃ فاتحہ پر غور کئے بغیر ممکن ہی نہیں ہے سورۃ فاتحہ میں وہ تعارف کروایا گیا۔وہ تعارف ایسا ہے کہ انسان اگر اس پر غور کرئے تو خدا پر عاشق ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا۔ہر انسانی محبت کے تعلقات کا مضمون خدا تعالیٰ کی چار صفات میں بیان فرما دیا گیا۔اور اتنے یقینی طور پر اتنے قطعی انداز سے کہ اس میں کوئی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔پہلے فرمایا الحمد لله رب العالمین سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہے وہ رب العالمین ہے۔تمام جہانوں کا رب ہے۔اب آپ غور کریں کہ آپ کو دنیا میں جو محبتیں ہوتی ہیں۔ان میں بڑا حصہ ربوبیت کی وجہ سے محبت ہے۔اگر ربوبیت نہ ہو تو آپ کی محبتیں خام رہ جائیں۔ماں سے بچہ کیوں