اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 495 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 495

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۹۵ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء ایسا آدمی آ جائے جس سے مزاج نہ ملتا ہو تو لوگ کن اکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں که کب یہ مصیبت ملے گی۔کب ہم اپنی پہلی مجلس میں لوٹیں گے اور یہ جو حقیقت ہے یہ انسان اپنے اوپر بھی چسپاں کر سکتا ہے لیکن نہیں کرتا اور یہی بڑی مشکل ہے کہ وہ غفلت کی حالت میں اپنی زندگی ضائع کر بیٹھتا ہے غور کریں کہ کیا خدا بھی کہیں ان لوگوں میں سے نہیں جس سے ہمیں اس دنیا میں الرجی رہی ہے۔الرجی ایسی تو نہیں تھی کہ اللہ کے نام کے ساتھ ہی آپ کو چھپا کی نکل آئے۔مگر الرجی ایسی ضرور تھی کہ اللہ کا نام جب تک جاری رہا آپ کا دل اپنے دنیا کے محبوبوں میں انکا رہا، اپنے آرام میں انکا رہا، اپنی پیاری چیزوں میں اٹکا رہا۔ادھر عبادت ختم ہوئی ادھر آپ دوڑے اپنی محبوب چیزوں کی طرف۔تو الرجی اس قسم کی بھی ہوا کرتی ہے کہ انسان زور سے، زبر دستی ، دم گھونٹ کر برداشت کر لیتا ہے لیکن دل کہیں اور انکار ہتا ہے۔پس اگر یہی کیفیت ہے تو یا درکھیں کہ ہم نے واپس خدا ہی کی طرف جانا ہے۔اور جب اس کے قریب ہوں تو جن کو آج اس دنیا میں خدا کے قرب کا مزہ نہیں آتا۔کس مصیبت میں مبتلا ہو جائیں گے اور حقیقت میں جہنم اسی چیز کا دوسرا نام ہے۔وہاں چونکہ خدا کے سوا کوئی اور حقیقت نہیں ہے۔خدا کا وجود کھل کر روشن ہو کر آپ کے سامنے ظاہر ہوگا۔اس وقت جو پیار کی باتیں اس دنیا میں آپ نے خدا سے کی تھیں اگر کی تھیں تو وہ پہلے سے بہت زیادہ لذیذ ہوکر، پرلطف ہو کر آپ کے لئے ابھریں گی اور آپ حیران ہو جائیں گی کہ خدا کی محبت میں میں جو لطف اٹھایا کرتی تھی وہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔اب جبکہ خدا قریب آیا ہے تو اب سمجھ آئی ہے کہ محبت کا لطف کیا ہوتا ہے۔اس کا تجربہ بھی انسان روز مرہ کی زندگی میں کرتا ہے اور کر سکتا ہے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔کئی دفعہ ایک انسان سے آپ کو پیار ہو لیکن وہ دور کا پیار ہوتا ہے کئی انسان ایسے ہیں کہ جب وہ قریب آتے ہیں تو وہ پیار مٹتا چلا جاتا ہے۔کیونکہ ان کے قریب آنے سے ان کی برائیاں بھی اُبھرتی ہیں، ان کی کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں۔کئی محبتیں اسی طرح نفرتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔کئی شادیاں اسی وجہ سے نا کام ہو جاتی ہیں کہ دور کے باندھے ہوئے تصور میاں کے بیوی کے لئے اور بیوی کے میاں کے لئے جب وہ سامنے آتے ہیں تو وہ تصور رفتہ رفتہ حقیقوں کے سامنے گھلنے لگتے ہیں اور جو حقیقتیں ابھرتی ہیں وہ تلخ ہوتی ہیں۔انسان سمجھتا ہے کہ میں نے تو یو نہی عمر گنوائی اس شخص کی خاطر اور اس کو حاصل کرنے کے شوق میں آ کے دیکھا تو کچھ اور ہی نکلا۔لیکن اس کے برعکس کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کے جتنا قریب جائیں اُتنا ہی اُن سے پیار بڑھتا چلا جاتا ہے۔رفتہ رفتہ ان کی حقیقت آپ پر آشکار ہوتی ہے۔کئی ایسے بھی لوگ ہوتے