اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 488

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۸۸ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء بیان فرمائی ہے مومنین کی۔پہلا نشان یہ ہے کہ الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة : ٤ ) کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں تو اگر غیب پر ایمان لانا ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جیسے لوگ جن بھوتوں کی کہانیوں پر ایمان لے آتے ہیں، پریوں کی کہانیوں پر ایمان لاتے ہیں، اسی طرح گویا اللہ پر ایمان لانا ہے۔اگر ایمان کی یہی حقیقت ہے اور غیب کا وہی معنی ہے جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے تو پھر تو یہ محبت سب فرضی قصے ہیں اور ایمان کی بھی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔اس لئے لفظ غیب پر ایمان لانے کو سمجھیں گی تو بات آگے چلے گی۔غیب پر ایمان کیا چیز ہے؟ اس پر اگر آپ غور کریں تو خدا تعالیٰ کی ساری کائنات آپ کے سامنے آکھڑی ہوگی اور اپنے ماضی کی طرف بھی توجہ ہوگی اور اپنے مستقبل کی طرف بھی توجہ ہوگی۔اللہ پر ایمان غیب پر ایمان کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر آپ اپنے ماضی پر نگاہ ڈالیں تو ازل کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔اور آپ کی زندگی کے پہلے بھی عدم ہے اور آپ کی زندگی کے معا بعد بھی عدم ہے۔اور پہلی عدم جو زندگی سے پہلے کی ہے۔یعنی جب آپ دنیا میں نہیں آتے یا نہیں آتیں تو اس پر نظر ڈال کے دیکھیں وہ کچھ بھی نہیں ہے۔گویا آپ کے آنے سے ایک جہاں بنتا ہے۔آپ کے وجود کے ساتھ ایک پورا جہاں پیدا ہو جاتا ہے اور ہر انسان کا عالم اس کے ساتھ ہی جنم لیتا ہے۔اس کے ساتھ ہی وہ پیدا ہوتا ہے۔اس کے سوا اگر اس کو نکال دیا جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔تو ایک ایک کر کے اگر آپ ہر وجود کو دنیا سے نکال دیں تو ایک عالم مٹتا چلا جاتا ہے۔اس کا ماضی بھی فنا ہو جاتا ہے اس کا حال بھی اسکا مستقبل بھی گویا دُنیا باقی نہیں رہی اور اگر آپ سب کے سب ذی شعور لوگوں کو دنیا سے نکال دیں۔فرض کریں اس دور کا تصور کریں جبکہ کوئی ذی شعور باقی نہیں تھا تو کل عالم فنا ہو جائے گا۔کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔لیکن يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وہ غیب پر اس لئے ایمان لاتے ہیں کہ اس حالت میں صرف خدا ہے جو موجود ہے۔اس کے بغیر عالم کا وجود میں رہ ہی نہیں سکتا۔کیونکہ عالم کہتے ہی اُس کو ہیں جسکا علم ہو اور اگر انسانی علم کے نتیجہ میں اس کے نہ ہونے کے نتیجہ میں ایک جہان مٹ جاتا ہے۔تو سب انسانوں کے مٹ جانے سے سارا جہان ہر پہلو سے مٹ جانا چاہئے مگر پھر بھی باقی رہتا ہے۔اگر وہ نہ رہتا تو ہم کہاں سے آتے۔تو غیب کا مضمون یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں۔اگر ہم نہیں تھے تب بھی خدا تھا۔غیب تھا اس وقت بھی کائنات موجود تھی اور غیب کو دیکھنے والا بھی موجود تھا۔پس خدا کی از لیست اور ابدیت کے لئے غیب کا تصور ضروری ہے۔اور یہ ایمان اتنا یقینی اور قطعی ہے کہ جس کا