اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 478
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۷۸ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے پاک نمونوں سے ظاہر فرمایا اور اس کو کئی رنگ میں بیان فرمایا اور وہی آواز ہے جو آسمان سے آپ کے دل پر نازل ہوئی پھر اس آیت میں آپ کے سامنے پیش کی گئی۔جس کی تلاوت آپ نے سنی۔اگر چہ اکثر اس کے ترجمہ سے ناواقف ہیں اس لئے اس اجلاس کی خاطر چنی گئی تھی کہ آپ کو معلوم ہو کہ محبت سے بہتر مربی اور کوئی نہیں اور محبت میں یہ ایک کسوٹی ہے جو ہمیشہ آپ کے سامنے رہنی چاہئے کہ جب خدا کے مقابل پر دوسری محبت غالب آئے تو سمجھ لیں کہ نہ آپ میں ایمان ہے نہ آپ میں توحید ہے اور جب یہ بات پیدا ہوتو فکر کریں اور پھر اس فکر کا علاج کیا ہے؟ جب خدا کے سوا کسی اور میں طاقت نہیں ہے کہ کسی کی نفسیاتی کیفیات کو بدل سکے۔تو یہ وہ علاج ہے جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پیش فرمایا اور اسی پر میں اس خطاب کو ختم کرتا ہوں۔حضرت ابو دردا بیان کرتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا داؤد علیہ السلام یوں دعا مانگا کرتے تھے یعنی اپنے پہلے انبیاء کی وہ باتیں جو خدا کو پسند آئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوبھی پسند آتی تھیں۔اگر چہ محبت کے ہر انداز میں ہر دوسرے سے بڑھ گئے مگر رشک سے اور پیار سے ان کا ذکر کیا کرتے تھے اور اپنی طرف سے اس سے بھی بڑھ کر بات کہہ سکتے تھے۔مگر یہ آپ کی شفقت اور رحمت ہے کہ اپنے سے کم درجے انبیاء کی باتوں کو محفوظ کرتے ہیں اور تعریف سے دیکھتے ہیں۔جیسے آپ میں سے جو حو صلے والا ہوا گر اپنے سے کم درجہ کے کسی آدمی کی بھی اچھی بات ہو تو اس کی بات اُٹھاتا ہے۔کہتا ہے واہ واہ سبحان اللہ ، اس نے بڑی اچھی بات کی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہی انداز دکھائی دیتا ہے کسی نے کوئی اچھی بات کی ہو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم شفقت کی نگاہ ڈال کر کہتے دیکھو کیسی اچھی بات کر گیا۔ایک شاعر نے ایک شعر اچھا کہہ دیا۔اس کا ذکر کر کے اس کی تعریف فرما دی۔پس حضرت داؤد کی تعریف کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے حضرت داؤد سے سیکھا تھا۔یہ آپ کے احسان کا طریق ہے۔باقی انبیاء کے ذکر کو بھی اپنے ذکر کے ساتھ زندہ کرنا چاہتے ہیں تا کہ امت ہمیشہ ان کو بھی دعاؤں میں یادر کھے۔ان کے احسان کا بھی خیال کرے۔یعنی وہ دعا جو آپ نے بیان کی وہ یہ تھی اس کے عربی الفاظ ہیں۔اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں۔اگر خاتون ہوئیں تو کہیں گی اے اللہ !