اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 475
حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۷۵ خطاب ۲۷ ؍جولائی ۱۹۹۶ء ایسا شخص بھی تھا جو بدصورتی میں مشہور تھا ، نہایت بھونڈا کہ یہاں تک کوئی انسان ایسا تھا نہیں جو پاس سے گزرتا ہو تو ہنسی چھپانے کے لئے منہ نہ پھیر لیتا ہو، نہایت ہی بھونڈا ، بدزیب اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔پھر غریب بھی ایسا کہ روز کی روٹی مزدوری سے کمانی پڑتی اور پسینے سے بدن شرا بور، کپڑے گندے، ایک دفعہ اپنی تنہائی کے غم لئے ، اپنی اسی کیفیت کے غم لئے اکیلا کھڑا تھا کہ پیچھے سے دو پیار کے ہاتھ آئے اور آنکھیں موند لیں اور آنکھیں موند کر پوچھا کہ بتا کہ میں کون ہوں؟ اس نے اپنے ہاتھ پھیر نے شروع کئے اس بدن پر جو آکر چمٹا تھا۔اپنا بدن اس سے رگڑنا شروع کیا اور بتا تا نہیں تھا۔آخر آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا بتا میں کون ہوں؟ آپ نے کہا کہ آپ کے سوا ہو کون سکتا ہے؟ مجھے غریب سے کون پیار کر سکتا ہے؟ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم مجھے اسی وقت پتہ چل گیا تھا کہ یہ آپ ہیں۔ہے کوئی اس دنیا میں جو آپ سا با اخلاق ہو۔آپ سے زیادہ پیار کرنے والا ہو؟ میں اس لئے چپ تھا کہ میرے نصیب جاگ اٹھیں ہیں آج خوش قسمت وہ میرے دن نصیب آئیں ہیں کہ اللہ کا محبوب مجھے ایسا چمٹا ہوا ہے جیسے میں اس کا محبوب ہوں اور میں چاہتا تھا کہ یہ لمحے لمبے ہو جائیں اور میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔بظاہر یہ Acting کر رہا تھا کہ پہچانوں تو سہی کہ ہے کون؟ تو دیکھیں کتنی سچی بات ہے کہ خدا بھی اپنے بندوں سے ان کے سب نقائص کے باوجود پیار کرنے کی صفات رکھتا ہے اور جو خدا کے ہو جائیں تو وہ صفات ان کو عطا کرتا ہے وہ پہلے سے بڑھ کر محبت کرنے والے خاوند بن جاتے ہیں، وہ پہلے سے بڑھ کر محبت کرنے والے باپ بن جاتے ہیں، وہ پہلے سے بڑھ کر محبت کرنے والے بھائی ہو جاتے ہیں۔کوئی دنیا کا رشتہ ایسا نہیں ، جس میں ان کی محبتیں زیادہ میٹل نہ ہو چکی ہوں، زیادہ پیار کرنے والی اور پیار جذب کرنے والی نہ بن جائیں۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے مقابل پر جو اُن سے محبت کرتے ہیں اُن کے بھی انداز بدل جاتے ہیں۔وہ حلاوت ایمانی والی بات ایسی پیدا ہوتی ہے کہ انسان حیرت اور رشک سے دیکھتا ہے رفعتوں کو اُن آسمانوں کو جو مدینہ کے آسمان تھے، جیسے آسمان نہ پہلے کسی نے دیکھے نہ بعد میں ویسے دکھائی دیئے۔جنگ احد کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متعلق یہ مشہور ہوا کہ گویا نعوذ باللہ من ذالک آپ وفات پاچکے ہیں قتل کر دیئے گئے ہیں۔کچھ لوگ تھے جو سراسمیگی کی حالت میں میدان چھوڑ کر دوڑ گئے کچھ ، پہاڑوں پر چڑھ گئے کچھ پتھروں پر بیٹھ گئے۔ایسے دماغ ماؤوف ہوئے صدمے کی شدت سے کہ کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہم کریں کیا۔کچھ تھے جو مدینے سے سن کر ان میں خواتین بھی تھیں