اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 471
حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اس طرح بار بار ہمیں سناتے ہیں کہ میں کس دف سے منادی کروں کیا علاج کروں کانوں کا کہ تمہارے ان کانوں میں یہ بات پڑ جائے وہ سمجھ سکیں کہ اللہ کی محبت کی لذت سے بڑھ کر اور کوئی لذت دنیا میں نہیں ہے۔پس کون ہے جو آپ کو قربانیوں کی طرف بلا رہا ہے؟ میں تو آپ کو ان حقائق کی طرف بلا رہا ہوں جن کے نتیجے میں آپ کے دل ہر دوسری چیز کو از خود قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے کیونکہ قربانی اعلیٰ کی خاطر ہوتی ہے اور قربانی تب ہوتی ہے اگر اعلیٰ کی محبت بڑی ہوتی ہو ورنہ قربانی کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی۔زبر دستی کی قربانی تو دلوں کو میلا کر دیتی ہے، مگر بے اختیار قربانی ہے جس سے زیادہ پیار ہے اس کی خاطر ادنی کو آپ قربان کر دیں اور بسا اوقات، عام طور پر کسی سے پیار ہو، پیار قائم رہتا ہے اور بالا پیار بھی قائم رہتا ہے لیکن جب ادنی پیار بالا سے ٹکراتا ہے تو آپ کے دل میں ادنی پیار کے لئے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔مائیں یہ جانتی ہیں اور اُن سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ بچوں سے ان کو پیار ہے اور اکثر صورتوں میں وہ ظاہر کریں یا نہ کریں یہ پیار ہر دوسرے پیار پر غالب رہتا ہے۔اس کے علاوہ آنے والے بچوں سے بھی پیار ہے، گھر میں آتے ہیں، ہمسائیوں سے بھی پیار ہے اُن کی نیکی کی وجہ سے یا اپنی نیکی کی وجہ سے، دوستوں ،سہیلیوں سے پیار ہے مگر مجال ہے جو کوئی آپ کے بچوں کو میلی آنکھ سے دیکھے اور پھر بھی اس کا پیار باقی رہ جائے۔اچانک وہ پیار شدید نفرت میں تبدیل ہو جائے گا تو کون سا بالا پیار ہے؟ یہ وہ حقیقت ہے جسے آپ نے سمجھنا ہے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اللہ کے پیار کو سب سے زیادہ فوقیت دو، تو ہر گز یہ مراد نہیں کہ دوسرے پیار دل سے مٹادو۔کبھی کوئی ایسی ماں دیکھی ہے جو بچے کے ڈر کی وجہ سے نہ خاوند سے پیار کرے، نہ بھائیوں سے، نہ ماں باپ سے نہ اپنے ہمسائیوں سے نہ اپنے تعلق داروں سے کہ مجھے بچوں سے پیار ہے اور کسی سے ہو نہیں سکتا۔بچوں سے پیار ہے تو غالب پیار ہے۔دوسروں سے بھی پیار ہے اپنے اپنے مرتبے اور مقام کا پیار ہے۔جب ادنی پیار غالب سے ٹکرائے گا تو پارہ پارہ ہو جائے گا۔یہ وہ طریق ہے جس سے آپ اپنے رب کی محبت کو پہچان سکتی ہیں اور یہی وہ پہچان ہے جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے کھولی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ شخص جس کو اپنے ماں باپ ، اپنے عزیز واقارب، اپنی دوستیں، اپنے اموال ، سب سے بڑھ کر اللہ اور رسول سے محبت نہ ہواس کو ایمان کی حرارت کا پتہ ہی کچھ نہیں۔برتر ہے۔یہ مطلب تو نہیں کہ یہ محبتیں مٹ جاتی ہیں بلکہ