اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 466 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 466

حضرت خلیفہ اسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۶۶ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس کلام میں کہتے ہیں ”سبحان من برانی“ کے اندر اور تب مجھے سمجھ آئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اندر لازماً اس آیت پر تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاصْبِرُ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا اے محمد ! اپنے رب کی خاطر اپنے رب کے حکم کو قائم کرنے کی خاطر صبر سے کام لے فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا تو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے رہتا ہے۔وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَقُوْمُ کہ جب بھی تو کھڑا ہو اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے اس کے حمد کے گیت گاتے ہوئے کھڑا ہو۔دیکھیں نظر کے سامنے ہونا اور تسبیح کرنا یہ وہ مضمون ہے جو قرآن نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سمجھایا اور اس عظیم روحانی استاد سے اُس عظیم روحانی شاگرد نے سیکھا جن کو ہم مسیح موعود کہتے ہیں اور آپ نے پھر اسی حوالے سے ہماری تربیت فرمائی۔اب یہاں ایک بات ہے جو غور کے لائق ہے۔صبر کا اس سے کیا تعلق ہوا ؟ وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبَّكَ یہ ایک بہت گہرا مضمون ہے اور ان دونوں مضامین کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔صبر کا یہ معنی کہ کوئی مارے اور تکلیف پہنچائے تو انسان برداشت کرے۔یہ ایک معنی ہے لیکن اور بھی معنی ہیں اور ایک معنی جو اعلیٰ درجہ کا حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یہ نیکیوں کو چمٹ جانا اور نیکیوں سے چپک کر بیٹھ رہنا اور ان کو ہاتھ سے جانے نہ دینا۔یہ سب سے اعلیٰ درجہ کا صبر ہے پس جیسے اعلیٰ درجہ کا رسول تھا اس کے خطاب میں بھی اس اعلیٰ درجے کا مضمون جوصبر میں سے سکھایا گیا کہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے حکم سے چمٹ جانے والا ہے اور اس سے کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اس حکم سے کبھی الگ ہو لیکن بنی نوع انسان کی تربیت میں چونکہ دقت پیش آتی ہے۔جب وہ یہ بات سنتے ہیں اور الگ ہو جاتے ہیں۔وَاصْبِرُ لِحُكْمِ رَبِّكَ کا دوسرا معنی بھی ساتھ شامل ہو جاتا ہے کہ اپنے رب کے حکم کو قائم کرنے کی خاطر صبر سے کام لیں اور ایک ہی راہ ہے سچی تربیت کی۔وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ - اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر اور اس کے حمد کے گیت گا اور اے وہ جس کو تو مخاطب ہے تو تو ہر حال میں ہمیشہ میری نظر کے سامنے رہتا ہے۔اس مضمون کا ان اشعار سے بھی گہرا تعلق ہے جو میں نے آپ کے سامنے یعنی میں نے نہیں پڑھے میرے کہنے پر میرے منتخب اشعار آپ کے سامنے پڑھے گئے۔”سبحان من میرانی “ کے اشعار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دل پر گزرنے والی ہر کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے احسان کے تابع