اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 451

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۵۱ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء فرمایا: اگر مردوں کی تربیت ہو جائے اور ان سے عورتیں امن میں آجائیں اور یقین ہو کہ ان کے جذبات ان پر غالب نہیں آئیں گے تو پھر یہ بحث جائز 66 ہے۔یہ بحث چھیڑ نا جائز ہے کہ اب پردے کی ضرورت ہے کہ نہیں۔“ ور نہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گو یا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے۔قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مد نظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے۔کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔قُل لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا (النور: ۳۱ ) فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمُ کہ تو ایمان والوں کو کہدے ( یعنی ان مردوں کو جو مومن ہیں ) کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہو گا۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۱۰۵) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔یہ بات ہر ایک فہیم انسان سمجھ سکتا ہے کہ بہت سا حصہ انسانوں کا نفس امارہ کے ماتحت چل رہا ہے اور وہ اپنے نفس کے ایسے قابو میں ہیں کہ اس کے جوشوں کے وقت کچھ بھی خدا تعالیٰ کی سزا کا دھیان نہیں رکھتے۔جوان اور خوبصورت عورتوں کو دیکھ کر بد نظری سے باز نہیں آتے اور ایسے ہی بہت سی عورتیں ہیں کہ خراب دلی سے بے گانہ مردوں کی طرف نگاہیں کرتی ہیں اور جب فریقین کو با وجود ان کی اس خراب حالت میں ہونے کے پوری آزادی دی جائے تو یقیناً ان کا وہی انجام ہوگا جیسا کہ یورپ کے بعض حصوں سے ظاہر ہے۔“ 66 (روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷۳)