اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 429 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 429

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کےمستورات سے خطابات ۴۲۹ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء پیدا کر دیتا ہے۔ہر عورت ایک اقتصادی معیار پر نہیں ہوتی نسبتاً زیادہ امیر عورتیں ہیں وہ زیادہ قیمتی سنگھار پٹار کرتی ہیں ، وہ زیادہ قیمتی کپڑے پہنتی ہیں ان کے فیشن اور قسم کے ہوتے ہیں اور ان کی دولت کے قصے بھی مجلسوں میں چل رہے ہوتے ہیں۔تو ایسی عورتیں بیچاریاں ہر وقت بے چین ہوتی چلی جاتی ہیں کہ فلاں کے پاس گئی تھی کہ دیکھا اس کا کتنا اچھا جوڑا تھا، دیکھا اس نے کہاں سے سنگھار لیا تھا، یہ اس نے امریکہ سے منگوایا تھا یہ جرمنی سے حاصل کیا تھا اور وہ جو سلائی کی ہے یہ تو کراچی میں جو سب سے مہنگی سلائی والی دکان ہے وہاں سے لی ہوئی ہے۔مشغلہ ہی یہ ہے، باتیں ہی یہ ہو جاتی ہیں نماز کے ذکر کا موقع کب ملے گا۔ذکر الہی ان باتوں میں سجتا ہی نہیں ، پھبتا ہی نہیں۔۔اور قرآن کریم نماز کے قیام اور ذکر الہی کا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے۔جہاں یہ پیدا ہو جائے وہ عورتیں آپ اگر مجھتی ہیں کہ وہ لذتوں سے محروم ہیں تو بالکل دھوکا ہے جو تسکین جو وقار اُن عورتوں کے چہروں پر ظاہر ہوتے ہیں وہ چیز ہی اور ہے۔بچپن میں ہم نے کثرت سے قادیان میں ایسی چلتی پھرتی جنتیں دیکھی ہیں، اُن کا مقام ان کا مرتبہ ہی الگ ہے وہ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو ادنی اور ذلیل اور حقیر سمجھتی ہیں ان میں محرومی کا کبھی بھی احساس پیدا نہیں ہوا۔ہاں لوگ جو ان سے ملنے آتے ہیں ان کو تسکین ملتی ہے، جو قریب بیٹھتے تھے ان کو ایک روحانی لذت عطا ہوتی تھی پس اسی دنیا میں رہتے ہوئے وہ اس دنیا کی وجود بن جاتی ہیں۔یہ وہ عورتیں ہیں جنہوں نے جنت دوبارہ پیدا کرنی ہے اور جو دوبارہ جنت پیدا کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ان کی اولادیں بھی نیکیوں پر قدم مارتی ہیں، ان کے مزاج بھی ہمیشہ اللہ کی طرف مائل رہتے ہیں اور نیک باتوں سے لذت پاتے ہیں۔پس بظاہر چھوٹی سی باتیں ہیں کوئی گناہ بھی نہیں ہے۔میں یہ نہیں کہتا جو باہرنکلتی ہیں وہ گناہوں کی خاطر نکلتی ہیں ہرگز نہیں بڑی بڑی نیک بیبیاں ہیں اپنے آپ کو سنبھالتی ہیں نکلتی ہیں شوق کی خاطر مگر مومن کا وقت ضائع ضرور ہو جاتا ہے۔ایسی باتوں میں اور ان کے ذہنی رجحانات کو یہ باتیں معین کرتی ہیں اور ان رجحانات کا اثر آئندہ نسلوں پر اور گھر کے ماحول پر ضرور پڑتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ وہ ماحول ذکر الہی کے لئے ایسا اجنبی ماحول بن جاتا ہے کہ وہاں وہ پودا لگ نہیں سکتا اور اسی پودے کا نام تو دراصل شجرہ طیبہ ہے وہی تو پودا ہے جس نے جنت بنانی ہے۔پس گھر میں اگر اللہ کے ذکر کی باتیں ہوں خدا کی محبت اور پیار سے آپ کی زندگیاں تسکین پانے والی ہوں اور پھر جو عورت کی طبعی ضروریات ہیں جس کو خدا تعالیٰ نے خود بیان فرمایا ہے اس میں