اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 425

حضرت خلیفہ صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۲۵ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء ٹھہر جاؤ۔مجھ سے پوچھا آپ کی ٹینکی؟ میں نے کہا بھری ہوئی ہے اس نے کہا مجھے آپ پر اعتبار ہے اس پر اعتبار نہیں۔اس کے سامنے اس سے پوچھا کہ تم یہ بتاؤ کہ یہ بھی مسلمان ہیں تم بھی مسلمان ہو تم پردہ کیوں نہیں کر رہی۔اس نے کہا میں اپنے ملک میں تو کرتی ہوں یہاں آگئی ہوں یہاں ماحول اور ہے۔اس نے کہا بس اب مجھے سمجھ آگئی ہے تمہارا اسلام مقامی ہے ان کا اسلام عالمی ہے اور چونکہ تم نے یہ حرکت کی ہے مجھے تم پر یقین ہی کوئی نہیں کہ تم نے سچ بولا ہو۔چلو جا کے ٹینکی دیکھیں دیکھا تو آدھے سے بھی کم پڑول۔تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر بھی اثر ڈالنا تھا کہ جو اسلامی قدروں کی ہر جگہ برابر حفاظت کرتے ہیں وہ سچے لوگ ہیں اُن میں کوئی فریب نہیں ہے وہ قابل اعتما دلوگ ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ ہمیں کم عزت دیتی۔عزت بڑھی اور یہی تجربہ میرا ہر جگہ کا برابر اسی طرح ہے۔پردہ اگر لوگوں کی نظر سے بے پرواہ ہو کر اختیار کیا جائے ، اللہ کی نظر کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے تو کچھ ڈھیلا بھی ہو تو کوئی ایسا بڑا گناہ نہیں۔نیت پاک ہو، نیت اللہ کی خاطر ایک پردے کو اختیار کرنے کی ہو اور زمانے کے لحاظ سے ، جگہوں کے لحاظ سے قدریں نہ بدلیں یہ نہ ہو کہ لنڈن مسجد آتے ہوئے اور پردہ ہو اور لندن مسجد سے جاتے ہوئے اور پردہ ہو یہ پر دے جو ہیں یہ خطر ناک ہیں۔اگر چہ میں ان کو بھی کچھ نہ کچھ عزت سے ہی دیکھتا ہوں میں کہتا ہوں کہ چلو اتنی سی تو حیاء ہے کہ احمدیوں میں ہی آکر ہم ٹھیک ہو جائیں لوگ بعض دفعہ مجھے کہتے ہیں ان کو کیوں آپ اجازت دیتے ہیں آنے کی؟ میں کہتا ہوں کہ اللہ بہتر جانتا ہے میرے سامنے تو پردہ کر کے ہی آتی ہیں، اتنی حیا تو ہے ناں ، میں تو ان کو بھی ملاقات کی اجازت دیتا ہوں جو بالکل بے پردہ آتی ہیں اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ کئی دفعہ دل میں خیال آتا ہے کہ کچھ قدغن لگائی جائے۔کچھ کہا جائے کہ آئندہ سے بے پردہ خاندان سے ملاقات نہیں کروں گا تو مجھے یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ ملنے جلنے سے جو نیک اثر پڑتا ہے اس سے بھی وہ محروم رہ جائیں گے۔چنانچہ کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ بے پرد خاندانوں کی جو بچیاں ساتھ آتی ہیں بڑے اپنے ڈھنگ نہ بھی بدلیں تو بچیاں نیک اثر قبول کر لیتی ہیں اور ان کے اندر تبدیلیاں ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ایسی معین مثالیں ہیں کہ وہ ماں باپ جو بے پر د تھے ملاقاتوں کے دوران اُن کی بچیاں قریب آئیں تو انہوں نے خود پردہ شروع کیا اور اپنے ماں باپ کو کہنا شروع کیا ہم تو اسی طرح رہیں گی ہمیں تو یہ زیادہ پسند ہے تو یہ وہ وجوہات ہیں۔یہ نہیں کہ میں اُن سے کوئی مرعوب ہوں خاص طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ضرورت ہے کہ پیارا اور محبت کے ساتھ سارے قافلے کو ساتھ لے کر چلا جائے اور