اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 417 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 417

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۱۷ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء کو۔تو کہتی ہیں تھوڑی سی لپسٹک تھوڑا سا نکھار سنگھار ٹھیک ہو جاؤں۔باہر نکلنا ہے کیا لوگ دیکھیں گے کیا سمجھیں گے، تو یہ عورت کی فطرت ہے اس لئے قرآن کریم دیکھیں کتنا پاک الہی کلام ہے فطرت کی گہرائیوں تک اترتا ہے ایک طرف فرما رہا ہے کہ جب تم بڑی عمر کی ہو جاؤ تمہیں ضرورت محسوس نہ ہو لوگ بھی سمجھیں کہ تم نکاح کی عمر سے آگے تجاوز کر گئی ہو تو کوئی حرج نہیں مگر فرمایا ہم جانتے ہیں تمہیں بننے سجنے کی عادت ضرور ہے اور یہ تمہاری فطرت میں داخل ہے اس لئے جب نکلو گی تو جاہلانہ طریق پر سنگھار بالکل نہیں کرنے۔اب وہ نسبتا ماڈرن احمدی عورتیں سمجھتی ہیں کہ اُن کی عزت ماڈرن ہونے میں ہے اُن کو میں نے احمدیت کے قافلے کے سر پر نہیں رکھا کیونکہ میرے نزدیک وہ ماڈرن نہیں بیک ورڈز (Backwards ) ہیں۔اُن کو سب سے آخر پر کھڑا کیا ہے جو پیچھے پیچھے چل رہی ہیں اور اُن کے حلیے اور ہیں۔وہ اپنی عزتیں اس بات میں محسوس کرتی ہیں کہ ہم پردہ چھوڑ دیں گی یہ تو پرانے زمانے کی بات ہے لیکن پھر سنگھار پٹار کیوں کرتی ہیں جب نکلتی ہیں تو سادہ چہروں کے ساتھ کیوں نہیں نکلتیں ، جب نکلتی ہیں تو سادہ لباس پہن کر کیوں نہیں نکلتیں، اگر ایک چیز سے فائدہ اُٹھانا ہے تو یا درکھیں دوکشتیوں میں بیک وقت پاؤں رکھنے کی اجازت نہیں ہو سکتی۔سنگھار کرنا ہے تو کر وشوق سے کرو اور گھر کے لئے کرو، اپنوں اور عزیزوں کے لئے کرو اور پھر پردہ کرو اور اگر دوسرے پہلو سے فائدہ اٹھانا ہے تو پھر سنگھار گھر چھوڑ کر آؤ اور باہر نکلو۔اب اس پہلو سے جو احمدی معاشرہ ڈویلپ (Develop) ہونا چاہئے جس کو میں چاہتا ہوں کہ ہو۔اگر ایسی عورتیں جنہوں نے نسبتا بے احتیاطی کے پر دے کرنے ہیں، اس کو ہلکے طور پر استعمال کرنا ہے، اُن کا دستور عام عورتوں سے بالکل برعکس ہونا چاہئے۔کوئی ان کو کہے چلو چلیں کہیں ٹھہر ٹھہرو میں ذرالپسٹک صاف کرلوں، غازہ صاف کرلوں ، میں تو بہت بنی گھنی ہوں، میں نے باہر جانا ہے غیر دیکھیں گے اس لئے میں ذرا مناسب ہو جاؤں۔بالکل اس رجحان کے برعکس رجحان ہے جو آپ کو ساری دنیا کی عورتوں میں یکساں دکھائی دیتا ہے۔یہ جو فطرت کی بات قرآن کر رہا ہے یہ ہر جگہ برابر ہے اس میں اسلام غیر اسلام کوئی فرق نہیں۔تمام دنیا کی عورتیں گھر میں جس طرح بھی ہوں بعض گھر میں بھی اچھے سلیقے سے رہتی ہیں مگر بعض ذرا گھر میں آتے ہی ڈھیلی پڑ جاتی ہیں کوئی پرواہ نہیں ، جھاٹا پھولا ہوا ہو اور کچھ صبح کی جو نیند کے آثار ہیں وہ چہرے پر اسی طرح داغ ڈالے ہوئے ہوں کوئی پرواہ نہیں لیکن باہر جانا ہو تو اچھا ایک منٹ ٹھہر جائیں۔یہ فطرت ہے وہ عام عالمی رجحان ہے عورت کا