اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 416 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 416

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء کہ وہ عورتیں جو بیٹھی رہ جاتی ہیں التِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا جو نکاح کی امید رکھتی ہیں نہ ضرورت محسوس کرتی ہیں یعنی بعض دفعہ بیوگان بڑی عمر کی ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ وہ کنواریاں یعنی وَالْقَوَاعِدُ وہ کنواریاں جو بڑی عمر کو پہنچ جاتی ہیں اور اپنے اندر نہ کوئی حاجت پاتی ہیں نکاح کی نہ دنیا سمجھتی ہے کہ ان کو نکاح کی ضرورت ہے ان کے متعلق فرمایا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ ان پر کوئی حرج نہیں کہ اپنے وہ پردوں کے اہتمام جوانہوں نے کئے ہوئے تھے اتاردیں عام سادہ زندگی میں لوگوں کے سامنے پھر میں جس طرح مردلباس میں پھرتے ہیں وہ بھی عام لباس میں بے شک پھریں مگر ایک شرط ہے کہ جاہلیت کے سنگھار پھر نہیں کرنے۔مگر بہتر ہے أَنْ يَسْتَعْفِفْ اس کے باوجود ان کا بچ کر رہنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ سوسائٹی بیمار ہوتی ہے بعض دفعہ بعض ایسے گندے مزاج کے ٹیڑھے مزاج کے مرد ہوتے ہیں جو ہر طرف نظر ڈالتے ہیں تو بد نظر ہی ڈالتے ہیں تو فرمایا ان کے لئے بہتر تو یہی ہے کہ استعفاف کریں یعنی جس حد تک بچ سکتی ہوں بچیں لیکن اس تعلیم کے پیش نظر اگر وہ نسبتا کھلے بندوں کھلے عام باہر نکلتی ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔اس ضمن میں حضرت اماں جان کی مثال گو اس مثال میں نہیں آتی مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بڑی عمر میں جا کر اول تو یہ کہ وہاں قادیان میں اور ربوہ میں بھی ہر ایک نظر جو آپ کو دیکھتی تھی۔وہ ایک مقدس ماں کے طور پر دیکھتی تھی اور آپ کے جلال کے رعب سے آپ کے چہرے کی طرف نظریں اٹھتی ہی نہیں تھیں مگر ایک عمر میں جا کر آپ کے لئے ممکن نہیں تھا کہ پردہ کھینچ کر اوپر سے نیچے لائیں اس لئے آپ چھتری لے لیا کرتی تھیں اور چھتری لے کر دار الانوار مثلاً سیر کے لئے جاتی تھیں۔کبھی ڈلہوزی میں بھی مجھے تو فیق ملی آپ کے ساتھ جانے کی تو جب دیکھتیں غیر مرد آئے ہیں تو ان کے سامنے چھتری جھکالی اور پھر چھتری اونچی کر کے کھلی ہوا کے لطف سے لطف اندوز ہوئیں حالانکہ اس عمر میں جا کر عام عورتوں کے لئے بھی یہی حکم ہے جو ایسے مقدس مقام نہ بھی رکھتی ہوں کہ تم نسبتاً آسان زندگی اختیار کر لو کوئی گناہ نہیں ہے لیکن استعفاف کا پہلو ایسا ہے کہ دنیا کو نظر آئے کہ یہ بچنے والی عورتیں ہیں۔یہ عام عورتیں نہیں ہیں۔دوسری شرط یہ ہے مُتَبَرِجتٍ بِزِينَةِ بعض عورتیں بڑی عمر میں بھی سنگھار پٹار بہت کرتی ہیں۔صرف جوانی کا قصہ نہیں ہے ان کو آپ کہیں ناچلو بازار چلتے ہیں کہیں گی ٹھہرو میں تیار ہو جاؤں کیوں تیار ہونا ہے اچھی بھلی گھر میں بیٹھی ہوئی صاف پاکیزہ روحانی چہرہ ہے کیا کرنا ہے اس