اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 37
حضرت خلیفہ المسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۷ خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۸۳ء مصیبتوں کا دوسرا نام ہے عورت غلام بنائی جاتی ہے، ہر قسم کی تکلیفوں میں مبتلا کی جاتی ہے، اس کے کوئی حقوق نہیں ہیں وہ صرف ایک قیدن ہے، جس نے گھر میں بچے پالنے ہیں اور سارے مشقت اور محنت کے کام کرنے ہیں، نہ اُس کے جذبات ہیں نہ اس کے احساسات ہیں نہ وہ قدر کے لائق کوئی چیز شمار ہوتی ہے۔ہم تمام دنیا کو نظریاتی لحاظ سے ان باتوں کا جواب دیتے ہیں۔ہم قرآن اور سنت سے نکال کر ان کو دکھاتے ہیں کہ عورت کو کبھی وہ شرف انسانیت نصیب نہیں ہوا جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کیا۔کس حال کو پہنچی ہوئی تھی عورت اس زمانے میں ،سوچو اور پھر دیکھو کہ ان عورتوں سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا سلوک فرمایا لیکن یہ ساری باتیں ہیں جب وہ سنتے ہیں اگر ان کے دل بظاہر قاتل بھی ہو جائیں تو پھر بھی وہ سوال اُٹھاتے ہیں اور جائز طور پر یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ ٹھیک ہے یہ باتیں ہوں گی لیکن یہ تو وقتی با تیں ہیں جیسے کہا کرتے ہیں لوگ کہ پدرم سلطان بود۔جب فخر کی باتیں ہوں تو وہ لوگ جن کے ہاتھ پلے کچھ نہ ہو وہ بعض دفعہ یہ کہا کرتے ہیں کہ ہاں تم بھی بڑے ہو گے مگر ہمارے باپ دادا بھی بہت بڑے تھے۔تو کہتے ہیں کہ آج کی دنیا کو تاریخ کیا سکھائے گی۔آج کی دنیا کو عصر حاضر کا انسان کچھ سکھائے تو سکھائے۔آج وہ اسلامی معاشرہ کہاں ہے جس کی برتری کے تم گیت گا رہے ہو۔وہ جنت ہمیں دکھاؤ تو تب ہم اس کو مانیں گے۔ورنہ تمہاری ساری جنتیں فرضی ہیں کچھ ماضی میں رہ گئی ہیں کچھ مرنے کے بعد ملیں گی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی کوئی جنت بھی فرضی نہیں ہے۔اسلام کی جنت ہمیشہ معاشرے کے ساتھ چلتی ہے اگر سچا اسلام ہو۔آج احمدی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم اس اسلام کو زندہ کرنے کے لئے دوبارہ پیدا کئے گئے ہیں جو اسلام ہمارے آقا اور مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلام تھا جو آپ نے جاری فرمایا ہم اس کھوئی ہوئی جنت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ جنت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھروں میں نازل ہوئی تھی۔یہ وہ جنت تھی جس نے آپ سے بے وفائی نہ کی۔یہ وہ جنت نہیں تھی جس سے آدم نکالا گیا تھا بلکہ یہ وہ جنت تھی جس سے خلیفہ اللہ نے ہمیشہ کے لئے شیطان کو نکال کر باہر پھینک دیا تھا۔یہ جنت ہمیشگی کی جنت تھی جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اور آج بھی یہی جنت ہے جو دنیا کو بچاسکتی ہے اس کے سوا اور کوئی جنت نہیں۔پس آج احمدی گھروں کومحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں تبدیل ہونا ہوگا آج امن کی اور کوئی راہ نہیں ہے سوائے اصلاح کے۔آج نجات کا کوئی راستہ نہیں مگر ایک راستہ کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو ہم قبول کر لیں۔پس اے دنیا کو امن اور