اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 399
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۳۹۹ خطاب ۲۶ / اگست ۱۹۹۴ء پر خطرہ مول لینے کے باوجود اپنے احمدی ہمسایوں کو بچانے کی کوشش کی اسی لئے میں نے جب گزشتہ جلسے میں مولویوں پر اور شدید مولویوں پر بد دعا کی جماعت کو اجازت دی تھی تو تاکید کی تھی کہ عامتہ الناس کے خلاف کوئی بددعا نہیں کرنی۔انہی میں بڑے بڑے قیمتی جو ہر چھپے ہوئے ہیں اور اللہ توفیق عطا فرمائے گا کہ ان جان لینے والوں میں سے جان قربان کرنے والے کثرت سے نکلیں گے۔آپ سب لوگ بھی تو اسی معاشرے سے نکل کر آئے ہیں اس لئے دعا یہ کریں کہ اللہ تعالیٰ اب یہ آزمائش کے دن جس میں خود اُس نے ہمیں اپنے ہی فضل کے ساتھ صبر کی توفیق بخشی ہے ، یہ دن اب ٹال دے اور نیک نتائج اور ثواب کے دن چل پڑیں، اجر کے دن چل پڑیں، اور لامتناہی ہو جائیں اس قدر ان مظلوموں کی آہوں کو قبول کرتے ہوئے، ان پر رحم فرماتے ہوئے عالمگیر جماعت پر عالمگیر برکتیں نازل فرمائے کہ ان کا شمار کرنا ممکن نہ رہے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس دور میں ہم داخل ہو چکے ہیں جو آج تک آپ لوگ دیکھ چکے ہیں یا آپ خواتین دیکھ رہی ہیں، ہر سال جماعت دیکھیں کتنے بڑے سے بڑے فضل لے کر آ رہا ہے۔میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آئندہ چند سالوں میں عظیم انقلابات رونما ہونے شروع ہو جائیں گے اور ملک کے ملک اور قوموں کی تو میں انشاء اللہ احمد یت میں داخل ہوں گی لیکن آپ یا درکھیں کہ یہ ساری باتیں اُن احمدی مظلوموں کی آہوں کا ثمرہ ہیں، اُن مارکھانے والے بچوں کی بلکتی ہوئی دعاؤں کا ثمرہ ہیں، اُن سسکیوں کا ثمرہ ہیں جو ماؤں نے لیں جو اپنے بچوں اور بچیوں کے زخمی ہاتھ دیکھے اور کچھ نہیں کر سکتی تھیں۔ہم بھول سکتے ہیں ان باتوں کو اور بسا اوقات تو میں اپنی ایسی دردناک تاریخ کو بھلا بھی دیا کرتی ہیں مگر خدا نہیں بھولتا اس کی قربانی کرنے والے کی ایک ایک ادا پر نظر ہوتی ہے۔اس کی ایک ایک سانس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ہر دکھ کے بدلے احسانات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔پس اب جو کچھ فضل جماعت پر ہورہے ہیں اور یہاں آنے کے بعد جو آپ لوگوں کی کایا پلٹی ہے تو ہمیشہ ان مظلوموں کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔اُن غربیوں اور بے کسوں اور بے سہاروں کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں جنہوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں مگر اپنے ایمان کو بچایا اور راہ صداقت پر ثابت قدم رہیں۔ان عورتوں کی قربانیاں بھی ہمیشہ انشاء اللہ احمدیت کی تاریخ میں زندہ رہیں گی اور اس لائق ہیں کہ زندہ رکھی جائیں اسی لئے میں نے یہ مضمون شروع کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ با قاعدہ بجنات کو مقرر کر کے ایسے تمام گھروں کی فہرستیں بنوا کر ، اُن کے دروازے کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر وہاں سے یہ واقعات اکٹھے