اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 392
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۹۲ خطاب ۲۶ اگست ۱۹۹۴ء تو رات کے اڑھائی تین بجے جلوس گھر آپہنچا، دروازے اور کھڑکیوں کو آگ لگا کر چلے گئے۔گھر میں میری بیٹیوں کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے جو سب سہم کر اپنی ماؤں کی چھاتیوں سے چھٹے ہوئے تھے۔ہم نے کوشش کر کے آگ بجھا دی۔صبح پھر جلوس آگیا ان کے ہاتھ میں برچھیاں اور کلہاڑیاں اور ٹو کے تھے۔انہوں نے دروازوں اور روشن دانوں کے شیشے توڑ دیئے اور گھر کو گھیرے میں لے لیا۔کوئی چیز باہر سے نہ اندر آسکتی تھی ، نہ باہر جاسکتی تھی۔چھوٹے چھوٹے بچوں کو دودھ کی ضرورت تھی دودھ ہم لا نہیں سکتے تھے۔ہم پانی میں چینی گھول گھول کر بچوں کو دیتے رہے۔بچے روتے اور بلکتے لیکن تین دن رات تک ہم انہیں صرف میٹھا پانی پلاتے رہے۔بڑی تکلیف کے دن تھے۔الحمد للہ کہ اللہ نے ثباتِ قدم بخشا اور ہمارے ایمان کو بچالیا اور ہم نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔امتہ الامین اہلیہ عبدالرزاق شاہ صاحب پھگلہ مھتی ہیں کہ ۱۹۷۴ء میں جب احمد یوں پر قیامت ٹوٹی تو ظالموں نے سب احمدیوں کے گھر لوٹ لئے اور جلا دیئے اور ہمارا گھر بھی راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ہم نے سب ظلم وستم برداشت کئے مگر احمدیت کو نہ چھوڑا اور مضبوطی سے اسے تھامے رکھا۔جب بچے سکول جاتے تو روتے ہوئے گھر آتے سکول ٹیچر سے احمدی ہونے کی وجہ سے مار پڑتی تھی۔یہ خود سکول گئیں یعنی لکھنے والی نے بتایا ہے کہ وہ خود سکول گئیں اور ٹیچر سے کہا کہ بچے زخمی ہو جاتے ہیں تم کیا ظلم کر رہی ہو تو اس نے کہا آسان بات ہے تم احمدیت چھوڑ دو تو میں مارنا چھوڑ دوں گی۔پس ماں کے ثبات قدم اور ایمان کے نتیجے میں روزانہ بچیوں کو مار مار کے ان کے ہاتھ زخمی کر دیے جاتے۔یران لوگوں کا دین ہے، یہ ان کا ایمان ہے ، ان کو تصور بھی نہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا کردار تھا۔ایک لمحہ کے لئے بھی کوئی شریف النفس انسان یہ نہیں سوچ سکتا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نہ ماننے والوں کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہوں۔یہاں تو ماننے والوں کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔انکار کی وجہ سے تو دکھ دینے کا رواج دنیا میں قدیم سے چلا آتا ہے مگر تائید میں دکھ دینے کا رواج ایک نیا مضمون ایجا د ہوا ہے۔پہلے کلمہ کے انکار کے نتیجے میں بھی سختی نہیں ہوتی تھی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے کلمہ کا انکار تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر لوگوں نے کیا مگر ایک شخص کے اوپر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ کے انکار کی وجہ سے ظلم نہ کیا۔اب یہ وہ دن آگئے ہیں کہ کلمہ پڑھنے کی سزائیں موت کی کال کوٹھڑی اور سر پر لٹکا ہوا پھانسی کا پھندا ہے اور آج ایک سو بارہ سے زائد احمدی ایسے ہیں جن کے اوپر یہ موت کا پھندا اس لئے لٹکایا گیا ہے کہ