اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 381
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۳۸۱ خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء ربوہ چلی جاؤ مگر میں نہ مانی اور کہا کہ چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔جب شہادت کا دن آیا تو کلینک میں دو آدمی آئے اور گولیاں برسا کر آپ کو وہیں شہید کر دیا۔بیاں کرتی ہیں کہ شدید گرمی میں پونے تین بجے کے قریب تینوں بچے سوئے ہوئے تھے کہ اچانک اٹھ کر چیخیں مارنے لگے۔میں پہلے ہی بے چین تھی کہ اتنے میں کمپوڈر روتا ہوا آیا اور بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کو کسی نے گولی مار دی ہے۔بہت ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ایک غم کا پہاڑ تھا جو مجھ پر ٹوٹ پڑا۔بڑی تکلیف میں یہ دن کئے۔بچے کہتے تھے کہ ابو کو کس نے گولی ماری؟ کیوں ماری؟ میں ان کو گولی مار دوں گا۔ایک بچہ کہتا کہ وہاں اور لوگ بھی تو تھے انہوں نے ہمارے ابا ہی کو کیوں مارا۔میں ان کو سمجھاتی رہی کہ ان کو شہادت کا شوق تھا سو وہ شوق پورا ہوا اور شہادت نصیب ہوئی۔مکرمہ ثریا صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ گوجرانوالہ میں علی پور میں رہتے تھے۔۷۴ء کے ہنگاموں میں جب وہاں پر جلوس آیا تو ایک رات پانچ چھ آدمی ہمارے گھر آگئے میری تائی جان نے ان سے کہا کہ تم کیا چاہتے ہو۔تو انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے گھروں کو اور تم لوگوں کو جلانا چاہتے ہیں۔اس پر میری تائی جان نے کہا بے شک ہمارے گھروں کو جلا دو لیکن ہمیں یہاں سے نکل جانے دو۔اتنے میں میرے بہنوئی عنایت محمد بھی آگئے۔انہوں نے میرے بہنوئی اور میرے والد غلام قادر کو پکڑ لیا۔میرے سامنے ان کو زبردستی گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔اکیلی عورت تھی بے بس تھی ، کچھ نہ کرسکتی تھی۔میرے دیکھتے دیکھتے ان ظالموں نے ان دونوں کو گولیاں مار مار کر شہید کر دیا۔اللہ نے مجھے صبر کی توفیق بخشی گونموں کا پہاڑ تھا جوٹوٹ پڑا تھا۔دو ماہ بعد میری والدہ بھی وفات پاگئیں۔بہت تکلیف دہ حالات تھے۔اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہر موقع پر ثبات قدم عطا فر مایا۔محترمہ امہ اللہ اور امتہ الرشید صاحبہ دونوں بیٹیاں ہیں ڈاکٹر عبد القدیر صاحب جدران کی۔لیکھتی ہیں ۱۹۸۴ میں جب حالات خراب ہوئے تو آپ کو کئی دفعہ دھمکی آمیز خطوط آئے یعنی ان کے والد کو کہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے لیکن آپ کو ان دھمکیوں سے کوئی خوف اور ڈر نہ تھا بلکہ نماز تہجد میں شہادت کی دعا مانگا کرتے تھے۔آخر ایک روز ایک شخص مریض بن کر آیا اور مسیحا کی جان لے گیا۔اس نے کئی فائر کئے اور ڈاکٹر نے اسی وقت شہادت کا مرتبہ پالیا۔آب زمزم سے دھلے ہوئے دوکفن مکہ سے لائے تھے ان کی خواہش تھی کہ ان کفنوں میں ان کو دفنایا جائے۔اصولاً شہید کو کفن نہیں دیا جاتا مگر ڈاکٹر صاحب کے کپڑے خون میں لت پت تھے جو پولیس نے لے لئے اور ڈاکٹر صاحب کو مجبوراً پھر