اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 369
حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۳۶۹ خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء کئے گئے۔جن لوگوں کو یہ انبیاء کہتے ہیں ان بے حیاؤں نے ان کی سنت پر نظر نہ ڈالی بلکہ ان ظالموں کی سنت کو اختیار کر لیا جو انبیاء کے ساتھ یہی سلوک کیا کرتے تھے۔آپ بیان کرتی ہیں کہ اس قیامت کے گزرنے کا علم جب مجھے ہوا تو کچھ دیر کے لئے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے لیکن گھر والوں نے رونے نہ دیا کہ ہمارے رونے سے آواز باہر نکلے گی۔حالت نا قابل بیان تھی، اس وقت تو مجھے کچھ علم نہ تھا کہ میرے بیٹوں نے کیسے جان دی اور ان پر کیا گزری بعد میں معلوم ہوا کہ بڑے ظالمانہ اور سفاکانہ طریق پر انہیں مارا گیا۔ہمارا ہنستا بستا گھر اجڑ چکا تھا، بڑا کڑا امتحان تھا، دل و دماغ میں غموں کا ایک طوفان تھا، آنسو زار و قطار بہہ رہے تھے لیکن اونچی آواز سے کچھ کہنے سننے کی اجازت نہیں تھی۔کہتی ہیں بعد میں حالات تبدیل ہوئے تو اس گھر میں رہنے کو دل نہ چاہتا تھا لیکن مجبورئی حالات ہمیں پھر اسی ویرانے میں لے آئی۔پہلے ہی بہت غمزدہ تھے دوسرا اہل محلہ نے ہمارا بائیکاٹ کر دیا۔یہ ان کی تعزیت تھی ، دکانداروں نے سودا سلف دینا بند کر دیا، تمام اشیاء بہت دور سے جا کر لاتے ، اہل محلہ ہمیں دیکھ کر راستہ بدل لیتے۔ان حالات سے ہمیں اور بھی اذیت پہنچتی لیکن ہم نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔یہ تو ہم سے غیروں کا سلوک تھا لیکن اپنے عزیز رشتہ دار جو غیر احمدی تھے انہوں نے بھی قطع تعلق کر لئے اور بار بار ہمیں یہی پیغام بھیجتے رہے کہ مذہب چھوڑ دو اسی کی وجہ سے تمہاری ساری بربادی ہے لیکن ہم نے کہا کہ جو قربانیاں ہمارے پیاروں نے مذہب کی خاطر دی ہیں ہم کسی قیمت بھی ان قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔تمہارا بس چلے تو ہماری جانیں لے لو، تمہارا بس چلے تو دوبارہ ان گھروں کو ویران کر دو مگر ہمارے دلوں کو ویران نہیں کر سکتے۔ان میں جو ایمان بستا ہے وہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور اسی ایمان کے برتے تو ہم زندہ ہیں۔یہ ایک احمدی خاتون کی داستان ہے جو اس کے دل پر بیتی ، اس کے جسم پر گزری اس نے اپنے دونوں جوان بیٹوں کو اس طرح شہید ہوتے دیکھا اور اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے اُسی کی دی ہوئی توفیق سے صبر کی توفیق پائی۔پس اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ صبر کرو مگر ساتھ ہی صبر کے ساتھ یہ ارشاد فرمایا وَ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة کہ صبر کی توفیق تمہیں نہیں مل سکتی جب تک اللہ سے مدد نہ مانگو۔ان حالات میں صبر کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے، پس آئندہ بھی جب بھی خدا تعالیٰ جماعت کو آزمانا چاہے گا تو ہمارے دل کی آواز یہی ہوگی کہ ع راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو