اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 363

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۶۳ خطاب الرستمبر ۱۹۹۳ء میں بیٹھی ہیں اور کشتی ڈگمگا رہی ہے۔آپ دعائیں کرتی ہیں کہ اے اللہ تو ہی بچانے والا ہے۔پھر انہیں ساحل پر ایک بزرگ نظر آئے جیسے وہ بزرگ آپ کے قریب آتے ہیں۔کشتی کنارے لگ جاتی ہے۔اس خواب کا ذکر آپ نے کسی پیر سے کیا۔پیر صاحب نے مشورہ دیا کہ اگر آپ کو وہ بزرگ مل جائیں جن کو آپ نے خواب میں دیکھا تھا آپ ان کی بیعت کر لیں۔پھر ان کے دل میں خیال آیا کہ بارہ سال سے ان کے والد بھی ان کو چھوڑ کر قادیان چلے گئے ہیں۔ہوسکتا ہے وہی فرقہ سچا ہو۔آپ اپنی ساس سے اجازت لے کر چاروں بچوں کو لے کر قادیان چلی گئیں۔جانے سے پہلے اپنے خاوند کو خط لکھا کہ میں ساس کی اجازت سے قادیان جارہی ہوں اگر مجھے سچ نظر آگیا تو میں قبول کرلوں گی۔ادھر جب برادری کو معلوم ہوا تو انہوں نے بہت شور مچایا اور ساس کو بھی بھڑ کا یا اور کہا اگر یہ احمدی ہو جائے تو اپنے بیٹے کو کہہ کر اسے طلاق دلوا دینا۔کہتی ہیں کہ وہ سب بہت پریشان تھے۔ایک طرف والدہ کا حکم تھا دوسری طرف میری محبت اور میرے خاوند اس طرح ایک ایسی حالت میں مبتلا تھے کہ کوئی فیصلہ کر نہیں پاتے تھے۔لیکن کہتی ہیں۔میں بہر حال ان باتوں سے بے خبر قادیان چلی گئی۔وہاں جب پہنچنی تو مجھے خلیفتر اسیح الثانی کی تصویر دکھائی گئی۔کیا وہ یہ بزرگ تھے؟ تو میں کہا نہیں یہ بزرگ نہیں تھے۔پھر حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی تصویر دکھائی گئی۔کیا وہ یہ بزرگ تھے ؟ میں نے کہا نہیں یہ بزرگ نہیں تھے۔پھر مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی گئی۔وہ اتنی قطعی طور پر تھی کہتی ہیں بے اختیار میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔کیونکہ بعینہ مسیح موعود علیہ السلام تھے۔ایک ذرہ بھی فرق نہیں تھا مشابہت میں۔چنانچہ میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا۔اگلے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ملاقات کے لئے گئی مگر رستے میں یہ کہتی جارہی تھی کہ اب بھی کوئی خلاف شریعت بات نظر آئی تو خواب کی پرواہ نہیں کروں گی اور بیعت نہیں کروں گی اور اس طرح اپنے دل کو سہارا دیتے ہوئے وہاں پہنچیں۔اس وقت کہتی ہیں حضور حضرت ام طاہر کے گھر تھے۔یعنی ہمارے گھر میں۔برآمدے میں آئے السلام علیکم کہا میں نے اسی طرح نقاب چہرے پر گرائے رکھا۔حضور نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا اور بیعت کے الفاظ دہرانے شروع کئے اور میں نے وہ الفاظ پیچھے دہرائے اور اس طرح بیعت کر کے میں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئی۔بعد میں میں نے حضرت ام طاہر کے ذریعے حضور سے پچھوایا کہ آپ نے بغیر سوال کئے بیعت کیوں لے لی؟ اس پر حضور نے بتایا کہ تمہارے ایک دوسرے بھائی جو احمدی ہو چکے ہیں وہ مجھے خط لکھا کرتے تھے کہ میری بہن بڑی نیک ہے یہ دُعا کریں کہ یہ بیعت کر لے۔چنانچہ کہتے ہیں میں