اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 360

خطاب ار ستمبر ۱۹۹۳ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات میں نے دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولوی صاحب کو ابھی زندہ رکھ کہتی ہیں اس کے بعد مجھے رویا میں دکھایا گیا کہ مولوی صاحب اس وقت زندہ رہیں گے جب تک تیرے دس بچے نہ پیدا ہو جائیں۔اب خدا کی عجیب شان ہے کہ دس بچوں تک مولوی صاحب زندہ رہے اور کچھ عرصہ اس کے بعد تک بھی اور دس ہی بچے پیدا ہوئے۔تو یہ واقعات کوئی جاہل ہی ہوگا جو کہے کہ نفس کی باتیں ہیں۔یہ ایسی خواہیں ہیں جن کا نفسیاتی تجزیہ ہو سکتا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو بڑی شان کے ساتھ پورا ہوتا ہے۔ایک مقتدر ہستی کی عطا کردہ خبریں ہیں جن کے پورا ہونے کی راہ میں کوئی دوسری طاقت حائل نہیں ہو سکتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے یہ سب نشانات ہیں اور خدا کرے کہ آپ میں بھی بکثرت ایسے نشان پیدا ہوں۔کیونکہ حقیقی صداقت کا نشان تو تعلق باللہ ہی ہے۔اگر تعلق باللہ نہ رہے تو مذہب کی صداقت اپنی جگہ اس طرح رہتی ہے جیسے وہ صداقت موجود ہے لیکن آپ کی ذات پر اثر انداز نہیں ہوئی ایسی مثال ہے جیسے سورج باہر چمک رہا ہو لیکن آپ اپنے دروازے بند کر کے اندھیری کوٹھری میں بیٹھی رہیں اور سورج سے فیض یاب نہ ہوسکیں۔بعض لوگ اپنی مرضی سے روشنیاں اپنے اوپر بند کر لیتے ہیں بعض مجبوراً ایسے گڑھوں میں پڑ جاتے ہیں۔یا ایسی قیدوں میں مبتلا کئے جاتے ہیں کہ جن پر سورج کی روشنی حرام ہو جاتی ہے۔پس ایسے گناہوں کے زنداں خانے بھی تو ہیں جن میں انسان ایسی حالت میں زندگی بسر کرتا ہے کہ باہر کا نور یعنی اللہ تعالیٰ کا نوران تک نہیں پہنچ سکتا۔پس یہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان زنداں خانوں سے، ان قیدوں سے، ان بند حجروں سے،ان تاریک گوشوں سے آپ کو نجات بخشے۔آپ باہر آئیں اور خدا کے نور سے اسی طرح فیضاب یاب ہوں جس طرح احمدی خواتین ہمیشہ ہوتی رہی ہیں اور آج بھی ہو رہی ہیں۔حمیدہ بیگم صاحبہ صدر لجنہ گولارچی ضلع بدین ایک واقعہ مھتی ہیں کہ ان کے گھر چوتھے نمبر کے مکان میں آگ لگ گئی چونکہ سب مکان لکڑی کے تھے اس لئے اس آگ نے تیزی سے اردگرد کے مکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔آگ تیزی سے پھیل رہی تھی کسی طرح بجھنے کا نام نہیں لیتی تھی۔لوگ میرے گھر بھی آئے اور میرا سامان اُٹھا اُٹھا کر باہر رکھنا شروع کیا تا کہ جب مکان جلے تو سامان تو بیچ جائے۔کہتی ہیں میں اس کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی جس کی دیوار اس آگ والی سمت میں تھی اور اتفاق سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فوٹو وہاں لٹکا ہوا تھا۔وہ فوٹو دیکھ کر ان کے ذہن میں آپ کا یہ الہام گھوم رہا تھا کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ ( تذکره صفحه ۳۲۴)