اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 361

حضرت خلیفہ امسح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب الرستمبر ۱۹۹۳ء پس وہاں بیٹھی دُعا کرتی رہیں۔کہتی ہیں نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاک چہرے پر لگی ہوئی تھی اور رَبِّ كُلَّ شَيْءٍ خَادِمُک کا ورد کر رہی تھی اور لوگ کچھ سامان اُٹھا اُٹھا کر باہر لے جارہے تھے۔ان سب باتوں سے بے پرواہ میں اس کمرے میں دعاؤں میں مگن تھی کہ اچانک میں نے دیکھا کہ لوگ باہر سے سامان اُٹھا اُٹھا کر واپس لا رہے ہیں۔پوچھا کہ یہ کیا ہوا ہے تو انہوں نے کہ آپ کے گھر کی دیوار تک آکر آگ اچانک ختم ہو گئی ہے کیونکہ اس وقت ہوا کا رخ بدلا ہے۔وہ ہوا جو تیزی کے ساتھ آگ کو ان کے گھر کی طرف لے جارہی تھی وہاں جا کر ٹھہر گئی کہتی ہیں یہ میرا چھوٹا ساخس وخاشاک کا گھر تھا۔میں دعا کرتی تھی کہ اے اللہ مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے اس گھر کو بچالے۔کہتی ہیں یہ معجزہ دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔میری روح پاتال تک خدا کے حضور سجدے میں گر گئی۔لوگ جو گولارچی سے پندرہ میل کے فاصلے پر گولارچی قصبے میں شاپنگ کے لئے یعنی سودا سلف خریدنے کے لئے آئے ہوئے تھے کہتی ہیں وہ سارے یہ معجزہ دیکھنے کے لئے آئے اور سارے علاقے میں یہ باتیں ہونے لگیں کہ دیکھو آج گولارچی میں عجیب واقعہ ہوا کہ پورا پاڑہ جل گیا ( پاڑہ غالباً محلے کو کہتے ہیں سندھی میں ) اور جب قادیانیوں کا گھر آیا تو آگ پیچھے مڑگئی یعنی خدا نے الٹی ہوا چلا دی۔پس کہتی ہیں قربان جاؤں اس پروردگار کے جس نے روز روشن کی طرح نشان دکھا کر سب کا منہ بند کر دیا۔اس طرح مجھ نا چیز کے ساتھ ہزاروں لوگوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے یہ الفاظ کہ آگ ہماری غلام ہے بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ کا روشن نشان دیکھا۔الحمد للہ علی ذلک ہماری ایک مخلص احمدی خاتون جو ایک واقف زندگی حافظ عبدالحفیظ صاحب کی بیگم ہیں جو حادثے میں شہید ہو گئے تھے، نجی کے مبلغ تھے۔وہ لکھتی ہیں کہ جنازہ جس دن ربوہ پہنچنا تھا یعنی ان کا حادثہ جو ہوا ہے وہ تبلیغ کی حالت میں میدان جہاد میں ہوا ہے اس لئے ہم ان کے لئے لفظ شہید برحق طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔وہ کہتی ہیں جنازہ جس دن ربوہ پہنچنا تھا اس رات میں نے اپنے دونوں بیٹیوں کو بتایا کہ تمہارے ابو فوت ہو گئے ہیں۔ان کی عمریں ساڑھے چھ سال اور پانچ سال تھیں اور یہ بھی کہ صبح ان کا جنازہ آئے گا تو عطیہ تو کافی پریشان ہوئی جو نسبتا بڑی عمر کی تھی مگر قرۃ العین کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔اس بات سے بے نیاز کہ موت کیا چیز ہوتی ہے وہ خوش ہوئی کہ ابو آ رہے ہیں۔اگلی صبح قرة العین کہہ رہی تھی کہ آج ابو آئیں گے اور دیکھ لینا کہ میری گڑیا ضرور لائیں گے۔کہتی ہیں اس سے میرے دل کی عجیب حالت ہوئی۔عطیہ نے بار بار سمجھایا کہ پاگل نہ بنو تم نے سنا نہیں ہے میری بیٹی نے