اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 32
حضرت خلیفہ المسح الرائع" کے مستورات سے خطابات ۳۲ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء بھی نیکی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا دستور بھی یہی تھا کہ گھر میں اپنی بیویوں کے نازک جذبات اور احساسات کا خیال رکھتے اور نہایت لطیف رنگ میں ان کی دلجوئی فرماتے اُن پر شفقت کا اظہار فرمایا کرتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ مجھے چوسنے والی ہڈی دیتے اور میں اس کو چوستی۔اور پھر مجھ سے لے کر اُسی جگہ سے چوستے جہاں میرا منہ لگا ہوتا آپ مجھے برتن دیتے تو میں اُس سے پیتی پھر حضور اُسی جگہ سے برتن کو منہ لگا کر پیتے جہاں میرا منہ لگا ہوا ہوتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے کچھ دیر پہلے حضرت عبدالرحمن جو حضرت ابوبکر کے بیٹے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ حضرت عائشہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے۔عبد الرحمن کے ہاتھ میں مسواک تھی۔مسواک کی طرف آپ نے نظر بھر کر دیکھا تو حضرت عائشہ سمجھ گئیں کہ آپ کو مسواک کی خواہش ہے۔حضرت عبد الرحمن سے انہوں نے مسواک لی۔اپنے دانتوں سے اُس کو نرم کیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی طرح استعمال فرمایا۔حضرت عائشہ بڑے فخر سے یہ کہا کرتی تھیں کہ تمام بیویوں میں مجھ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آخری وقت میں یہ میر العاب دہن تھا جو حمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن میں مل گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس گہری محبت کے باوجود حیرت انگیز طور پر بیویوں کے درمیان انصاف کرنے والے تھے اور جہاں تک آپ کا بس تھا آپ نے کبھی بھی کسی بیوی سے فرق نہیں کیا۔کسی بیوی کو کسی دوسری بیوی کی حق تلفی کی بھی اجازت نہ دی۔آپ ایک روایت کے مطابق یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! یہ میری تقسیم اس دائرے میں ہے جس میں مجھے اختیار ہے۔یعنی جہاں تک میرا بس چلتا ہے میں اپنی تمام ازواج میں انصاف کا سلوک کرتا ہوں جو کچھ میری طاقت میں ہے وہ میں سب کے لئے برابر کرتا ہوں۔مجھے اس کے متعلق ملامت نہ کرنا جس پر میرا کوئی بس اور اختیار نہیں۔یعنی دل کا معاملہ جو ہے وہ میرے قبضہ قدرت میں نہیں اے اللہ ! دل کے جھکاؤ کی وجہ سے مجھے نامنصفوں میں شمار نہ فرما لینا۔کتنی باریک نظر ہے اللہ کی رضا پر وہ جس کی پہلی غلطیاں پہلی کو تا ہیاں بھی معاف اگر کچھ تھیں، جس کی آئندہ کی کوتاہیاں بھی معاف اگر کچھ تھیں، انصاف کے متعلق اتنا باریک احساس رکھتا تھا کہ خدا کے حضور عرض کیا کرتا تھا کہ جو کچھ میرے بس میں ہے وہ تو میں کر چکا لیکن دل کے معاملات بس کے نہیں ہیں اس لئے اُس بارہ میں