اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 31
حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۳ء ہوتے ہیں۔بہت سے ہیں جو گھروں کے سکون برباد کر کے دنیا میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔راتیں اپنی بھی تباہ کرتے ہیں، اپنی بیویوں کی بھی راتیں تباہ کرتے ہیں، گھر اجاڑ دیتے ہیں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا پھر بھی دم بھرتے ہیں۔اس مقدس رسول کی اگر غلامی کا دعویٰ ہے تو وہ کر کے دکھاؤ جو محد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے۔حضرت ہشام کی روایت ہے اپنے والد سے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الموت سے بیمار پڑے تو آپ باریاں بدلتے رہے اور ہر گھر میں جا کر پوچھتے تھے کہ آج کس کی باری ہے پھر جب آپ کو یہ بتایا گیا کہ آج عائشہ کی باری ہے تو وہیں رک گئے اور وہ آخری دفعہ تھی جو آپ نے باری بدلی۔پھر بیماری نے اجازت نہ دی کہ آپ کسی اور گھر جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ محسوس ہو گیا اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی تھی کہ یہ آخری بیماری ہے۔تو ایک مرتبہ جب حضرت عائشہ کے سر میں درد تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! اگر تم میرے سامنے مرتی تو میں تمہیں غسل دیتا اور میں خود تمہاری تجہیز وتکفین کرتا۔عائشہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو میری موت کی خوشی مناتے ہیں کہ جب میں مرجاؤں گی تو نئی بیوی لے آئیں گے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناراض نہیں ہوئے بلکہ بیماری کی حالت میں بھی ہنس پڑے۔یہ جو واقعہ ہے بظاہر بڑا چھوٹا سا ہے اور تعجب انگیز بھی۔عام مرد اگر دل میں تمنا بھی رکھتے ہوں کہ بیوی مر جائے تو یہ بات نہیں کہہ سکتے یہ صرف ایک صادق اور امین کا قول ہے۔آپ جانتے تھے کہ عائشہ کو اس سے زیادہ پیاری اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی کہ میرے ہاتھوں سے رُخصت ہواس کامل یقین کے نتیجے میں یہ کلام دل سے نکلا ہے اور آپ جانتے تھے کہ واقعی وہ عورت خوش نصیب ہے جس کی میں تجہیز و تکفین کروں۔جس کو میں نہلاؤں۔تو زمانے سے رخصت ہوتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے یہ ایک احسان تھا جو آپ اُن پر نہ کر سکتے تھے۔یہ دُکھ کا احساس تھا جس کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک موقع پر فرماتے ہیں اگر تو نے خدا کی خاطر اس کی رضا کے لئے اپنے نفس کوکھانا کھلایا تو بھی عبادت ہے اور نیکی ہے۔تو نے اگر اپنے بیٹے کو کھانا کھلایا خدا کی خاطر تو وہ بھی نیکی ہے۔اگر تو نے اپنی بیوی کو کچھ کھلایا ، اس کے منہ میں لقمہ ڈالا اللہ کی رضا کی خاطر تو وہ