اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 346

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۴۶ خطاب الرستمبر ۱۹۹۳ء نے کہا میری بیوی زندہ موجود ہے خود اس سے جا کر پوچھ لو لیکن ان کو اس کی جرات نہ ہوئی۔قاضی اکمل صاحب کے دو بچے جمشید عاقل اور خورشید احسن صغرسنی میں یعنی بہت چھوٹی عمر میں میں فوت ہو گئے تھے۔قاضی اکمل صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے ان کی اہلیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بہت ہی درد ناک دُعا کا خط لکھا۔حضور علیہ السلام نے نعم البدل کی بشارت دی کہ تسلی رکھو اللہ نعم البدل عطا فرمائے گا۔اس کے بعد مرحومہ نے خواب میں دیکھا کہ حضور علیہ السلام نے آپ کو دوبال عنایت کئے ہیں۔اب یہ تعبیر طلب رؤیا کی ایک مثال ہے۔بال کا بظاہر بچے سے کوئی تعلق نہیں لیکن پنجابی میں بال لڑکے کو کہتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ نے اس طرح ان کو یہ خواب دکھائی جس کی ان کو خود سمجھ نہ آئی۔حضرت خلیفہ اسیح الاول کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا میں نے یہ عجیب خواب دیکھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے دو بال عطا کئے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول دھوپ میں چادر تانے لیٹے ہوئے تھے۔دفعہ چادر ہٹا کر فرمایا! اللہ تعالی آپ کو دوڑ کے دے گا۔مبارک ہو۔چنانچہ جولائی ۱۹۱۱ء اور جولائی ۱۹۱۳ء کو دوٹر کے ان تاریخوں میں پیدا ہوئے اور دونوں کے نام حضرت خلیفہ اسیح الاول نے رکھے۔کان میں اذان دی اور بعد میں ضرورت کے وقت گھر تشریف لا کر بھی ان کو دیکھتے رہے۔تو رؤیا کے اندر اس کی صداقت کا نشان بھی موجود ہیں۔صرف دو بالوں کی خبر تھی اور بالوں سے مرادلر کے تھے اور ان کی تعبیر حضرت خلیفہ امسیح الاول نے وقت سے پہلے کر دی تھی اور دوہی لڑکے پیدا ہوئے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی اور دونوں زندہ رہنے والے تھے۔دونوں کو ہم نے ان کی پختگی کی عمر میں دیکھا ہوا ہے۔پس اللہ تعالیٰ احمدی خواتین سے مسلسل ساری تاریخ احمدیت میں ذاتی تعلق کے ذریعے اپنی قدرت نمائی کا اظہار فرماتا ہے اور اپنے تعلق کا اظہار فرما تارہا ہے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ آئندہ آپ سب کے ساتھ بھی خدا کے پیار اور محبت کا یہی سلسلہ جاری رہے گا۔نسبتاً آج کی نسل کی باتوں میں میں ایک ڈاکٹر لطیف احمد صاحب طیب کی مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں وہ غانا سے لکھتے ہیں کہ میری بیوی کو بچے کی پیدائش سے چند دن پہلے خواب آئی کی گود میں ایک بچہ ہے میری والدہ پوچھتی ہیں کہ یہ تم نے کس کا بچہ اُٹھایا ہوا ہے تو بیوی کو جواب دیتی ہیں۔آپ اپنے سلطان احمد کو نہیں پہچانتیں۔اب خواب میں نام بھی بتادیا گیا اور واقعہ وہ بچہ پیدا ہوا اور اس کا نام پھر سلطان احمد رکھا گیا۔