اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 331

خطاب ۳۱ ؍ جولائی ۱۹۹۳ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات کے خطابات باری پر بہت ہی نحیف شکل میں پردہ کئے ہوئے حضور کی خدمت میں جا کر بیٹھ گئیں پوچھنے پر کہ کیا تکلیف ہے انہوں نے انگلی سے سینے کی طرف اشارہ کر کےکہا کہ مجھ کو بخار، دل کی کمزوری اور سینے میں درد ہے۔حضور نے اسی وقت ایک خادمہ سے ایک پیالہ پانی کا منگوا کر اس پر دم کر کے اپنے ہاتھ سے ان کو دیا اور فرمایا اس کو پی لیں۔اللہ تعالیٰ شفا دے گا۔اس رؤیا کے بعد جب ان کی آنکھ کھلی تو طبیعت بہتر ہونی شروع ہوگئی اور صبح خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری طرح شفایاب ہو چکی تھیں۔حضرت نانا جان جب کمرے میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ شاید میری بیوی کا مردہ دکھائی دے تو دیکھا کہ وہ اچھی بھلی صحت یاب۔کہتی ہیں مجھے پیاس لگی ہے پانی پلاؤ۔بھوک لگی ہے کھانا کھایا اور بالکل ٹھیک۔کہتے ہیں میں حیران تھا کہ یہ کیا ہوا ہے۔تب انہوں نے مجھے یہ رویا سنائی اور بتایا کہ اس رؤیا کے ساتھ پانی پیتے ہی میرے اند رسب بخارات اور بخار کے زہر نکلنے شروع ہو گئے اور میں خدا کے فضل سے بھلی چنگی ہوگئی۔شیخ عبدالرحمن صاحب نائب صدر قانون گو کپورتھلہ کی اہلیہ نے جنوری ۱۹۳۶ء میں تحریر فرمایا کہ میں در دشقیقہ سے متواتر بیمار رہتی تھی اور کسی صورت مجھے آرام نہیں آتا تھا۔کسی کروٹ چھین نہیں پاتی تھی۔ایک دفعہ دعا کر کے سوئی۔شدید تکلیف کی حالت میں لیٹی تھی کہ مجھے آپا جان دکھائی دیں یعنی میری والدہ مرحومہ جو ایک پلنگ پر تنہا قیام فرما ہیں۔میں آتی ہوں تو سر ہانے سے اُٹھ کر پاکتی بیٹھ جاتی ہیں اور مجھے سرہانے کی طرف بٹھا دیتی ہیں اور میں جب عرض کرتی ہوں کہ مجھے بہت ہی تکلیف ہے تو کہتی ہیں یہ دعا پڑھا کرو۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِ مُک اس سے صحت ہو جائے گی کہتی ہیں رویا میں ہی میں نے وہ دعا پڑھنی شروع کی اور صبح تک اس بیماری کا نام ونشان باقی نہیں تھا۔حضرت مولوی ابراہیم صاحب بقا پوری کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ ۱۹۳۰ء میں میں ٹائیفائیڈ سے سخت بیمار ہو گئی۔بیماری کے ابتدائی ایام میں میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے مکان کی چھت پر سیٹرھیوں کے راستے گئی ہوں لیکن جب میں نیچے اترنے لگی ہوں تو وہ سیڑھیاں غائب ہیں اب میں سخت گھبرائی ہوں کہ کس رستے سے اتروں۔اس وقت دیکھا کہ حضرت اماں جان نیچے کھڑی ہیں اور فرماتی ہیں چھلانگ لگا دو میری گود میں آجاؤ گی۔کہتی ہیں میں ڈرتی ہوں۔میں چھلانگ نہیں لگاتی۔پھر فرماتی ہیں چھلانگ لگا دو میری گود میں آجاؤ گی پھر میں ڈر جاتی ہوں پھر تیسری دفعہ فرمایا کہ چھلانگ لگا دو میری گود میں آجاؤ گی۔تب میں نے چھلانگ لگائی اور آپ نے مجھے اپنی گود میں پھول کی طرح لے لیا۔اس کے بعد جب صبح حضرت اماں جان کو یہ خواب سنائی تو آپ نے تعبیر فرمائی کہ لمبی بیماری دیکھوگی