اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 317
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۱۷ خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء ان کو ماریں پڑتی ہیں۔اور دوسری جگہ خاموشی اور احترام سلوک برابر ہونا چاہیے۔اور تادیب کا مطلب ہے اپنے گھر میں بھی تادیب کی جائے یعنی ادب سکھایا جائے غیروں کے گھر میں بھی ادب سکھایا جائے۔بچے کے دل میں وقار کے ذریعہ احترام پیدا ہوتا ہے۔اعلی اخلاقی قدروں کے ذریعہ احترام پیدا ہوتا ہے۔میاں بیوی کے تعلقات کے اچھے ہونے کے نتیجہ میں احترام پیدا ہوتا ہے۔یہ تمام ایسی چیزیں ہیں جن پر آپ کو غور کرنا ہو گا۔اپنی زندگی کی طرز اسلام کے قریب تر لانی ہوگی۔حضرت اقدس محمد مصطفی می ﷺ کے اسوہ کی طرح اگر حسن معاشرت ہو جائے۔اگر خاوند اپنی بیویوں سے محبت اور پیار کا سلوک کریں مگر غلط بات کو اس طرح برداشت نہ کریں کہ محبت کی نذر کر دیں۔ضرور سمجھائیں اور اپنے طرز عمل سے بتا دیں کہ یہ وہ حد ہے جس سے میں تجاوز نہیں کرنے دوں گا۔تو ماں یا بیوی کا خاوند کے دل میں احترام ہو گا خاوند کا بیوی کے دل میں احترام ہو گا جو اولا دان گھروں میں پلے گی وہ ضرور اپنے بڑوں کا حترام کرنے والی ہوگی۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق حضرت عائشہ ر وایت فرماتی ہیں کہ بے حد حلم والے کبھی کسی بات پر تو ٹو کتے نہیں تھے اُف نہیں کرتے تھے اپنے کام خود کرتے اپنے کپڑے خودی لیتے تھے۔گھر کے کاموں میں مدد کرتے تھے۔اتنی مصروفیتیں اتنی ذمہ داریاں کہ دنیا میں سب سے زیادہ ذمہ داریاں اگر کسی انسان پر ڈالی گئی ہیں تو ہمارے آقا مولی حضرت محمد رسول اللہ پر ڈالی گئی تھیں۔مگر پھر بھی علم کا یہ حال ہے کہ چھوٹے چھوٹے گھر کے معمولی کام بھی جھاڑ وصفائی ہر قسم کے کام خود کرتے اور اپنی بیوی کی مدد کرتے تھے مگر بداخلاقی کی بات کو برداشت نہیں کرتے تھے ایک دفعہ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ میں نے آپ کی ایک اور زوجہ محترمہ سے جل کر جن کے ہاں سے کوئی چیز آئی تھی۔ان کے چھوٹے قد کا طعنہ اس طرح دیا کہ میں نے رسول کریم سے کہا وہ بیوی آپ کی جو اس چھنگلی کے برابر ہے۔آنحضرت علی سنجیدہ ہو گئے آپ کے چہرہ پر غم کے آثار ظاہر ہوئے۔آپ نے فرمایا کہ عائشہ یہ تم نے ایک چھوٹی سی بات اور دیکھیں کتنی فصاحت و بلاغت ہے چھوٹی سی انگلی کے طعنہ پر فرمایا تم نے ایک بہت چھوٹی سی بات کی ہے مگر اتنی کڑوی کہ سمندر میں ڈالی جائے تو سمندر کا رنگ متغیر ہو جائے اس کی یو متغیر ہو جائے۔سمندر زہریلا ہو جائے۔اتنا گہرا صدمہ حضرت عائشہ کو اپنی اس بات پر پہنچا ایسی ندامت ہوئی کہ پھر کبھی خیال نہیں گذرا کبھی و ہم بھی دل میں نہیں گزرا اپنی کسی سوکن کو دوسری کسی زوجہ محترمہ کو پھر طعنہ کبھی دیں۔تو آنحضرت علے ادب فرماتے تھے لیکن ادب کو اصولوں کی حدود سے