اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 318

۳۱۸ خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات تجاوز نہیں کرنے دیا کرتے تھے اس کے نتیجے میں احترام پیدا ہوتا ہے۔پس یہاں کے معاشرہ میں احترام کا قیام بہت زیادہ ضروری ہے۔کیونکہ یہ احترام اب بچوں کے دل سے اوپر کی نسل کے لئے اتنا اٹھ چکا ہے کہ سکولوں میں کالجوں میں ایک لا قانونیت کا سا حال ہے۔ہمارے ایک دوست احمدیت سے بہت تعلق رکھنے والے مجھے ملنے آئے ان کا پہلے یہ حال تھا کہ اپنے آپ کو آنریری احمدی کہا کرتے تھے۔اس جلسے کے دنوں میں ان کے دل پر اتنا اثر پڑا کہ انھوں نے امام صاحب کو کہا کہ آنریری کا لفظ چھوڑ دو احمدی کہا کرو وہ بتا رہے تھے کہ ہمارے سکولوں میں اب اتنی بدتمیزی ہوگئی ہے کہ استاد کی مجال نہیں کہ کسی لڑکے کو کوئی نصیحت سختی کے ساتھ کر سکے نرمی سے بھی بات قبول نہیں کی جاتی اور لڑکے اُٹھ کر مارنے کو دوڑتے ہیں اور بدتمیزی کی حد ہو چکی ہے۔ہم تو بڑی مشکل سے اپنی عزت بچا کر سکولوں اور کالجوں میں گزارے کر رہے ہیں۔یہ نسل ان ماؤں کی گود میں پلی ہے جنھوں نے احترام گھروں میں پیدا نہیں کیا۔اور یہ انحطاط ایک دو نسلوں کی بات نہیں ایک لمبے عرصے سے شروع ہوا ہوتا ہے اور چھوٹی چھوٹی بدتمیزیاں گھروں میں پلی ہیں جو پھر بڑھتے ہوئے قومی شعار بن جایا کرتی ہیں۔ہمارے اردو کے ایک شاعر ہیں جو قو می نقائص کے متعلق کلام کرتے ہیں اور بہت اچھا کلام ہے وہ کہتے ہیں۔دن وہ بھی تھے کہ خدمت استاد کے عوض جی چاہتا تھا ہدیہ دل پیش کیجئے بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق کہتا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجئے تو یہ بل پیش کرنے والے محاورے یہ دنیا وی تمدن کے غلبے ہیں جو معاشرے کو تباہ کر دیتے ہیں۔اپنے گھروں میں ان کو داخل نہ ہونے دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے حق میں بہت ہی پیاری دعا کی وہی دعا اب میری آپ کے لئے ہے کہ ع نہ آوے ان کے گھر تک رعب دقبال کیسی پیاری دعا ہے فرمایا۔دجالی ادا ئیں تو الگ بات ہے رعب دجال نہ آئے۔عملاً یہ بہت ہی گہری نفسیاتی حقیقت پر مبنی دعا ہے۔اگر سوسائٹیاں غیر سوسائٹیوں سے مرعوب ہو جائیں اور ان کو احساس کمتری پیدا ہو جائے تو پھر ہر قسم کی خرابی سیلاب کی طرح ان گھروں میں امڈ آیا کرتی ہے۔اگر