اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 28
حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۸ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ حبشی صحن مسجد نبوی میں برچھیوں سے کھیل رہے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے کھڑے ہو کر سپر کیا اور میں اس وقت تک کھیل دیکھتی رہی یہاں تک کہ خود تھک کر پیچھے نہ ہٹ گئی۔( بخاری کتاب العیدین) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ گڑیاں کھیل رہی تھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ساری سہیلیاں بھاگ گئیں۔یہ ہوتا ہے عموماً کہ چھوٹی چھوٹی بچیاں شرما کر دوڑ جایا کرتی ہیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور اُن کو بلایا اور کہا کہ جاؤ اندر جاؤ ( صحیح بخاری کتاب الادب باب الانبساط ) اور عائشہ کے ساتھ گڑیاں کھیلو۔حضرت عائشہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ دوڑ کا بھی مقابلہ کیا۔اب یہ ایسی باتیں ہیں جو فرضی پیروں کے تصور میں بھی نہیں آسکتیں۔خاتم الانبیاء سرور دو عالم ایسی بے تکلف زندگی بسر کر رہا ہے کہ بیوی کہتی ہے کہ میرے ساتھ دوڑ کر دکھا ئیں تو آپ دوڑ پڑتے ہیں اور دوڑ میں حضرت عائشہ آگے نکل گئیں۔یہ شروع کا زمانہ تھا جب آپ کا بدن بہت ہلکا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ان کو پھر دوڑ کا چیلنج کیا جب ان کا جسم کچھ بھاری ہو گیا تھا اور پھر آپ آگے نکل گئے اور فرمایا عائشہ یہ اس کا بدلہ ہے جو تم نے مجھے شکست دی تھی۔( مسند احمد بن حنبل جلد ۶ ص ۲۶۴) حضرت عائشہ صدیقہ کی باری پر لوگ زیادہ تحفے بھیجتے تھے کیونکہ مشہور ہو گیا تھا کہ یہ بیوی زیادہ پیاری ہے اور لوگ سمجھتے تھے کہ اس وقت تحفہ جائے تو حضور ا کرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم زیادہ پسند فرمائیں گے۔کچھ بیویوں نے مل کر اس مسئلے پر غور کیا کہ اس کا علاج ہونا چاہئے۔چنانچہ ام سلمہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ وہ اعلان کر دیں کہ آئندہ سے سب باریوں میں برابر چیز بھیجا کرو۔ایک دفعہ انہوں نے بات کی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔پھر بات کی پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ نہ ہوئے۔پھر تیسری دفعہ جب حضرت ام سلمہ نے کہا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے عائشہ کے بارہ میں تکلیف نہ دیا کرو۔خدا کی قسم تم میں سے کسی کے بستر پر مجھ پر کبھی وحی نہیں ہوئی مگر عائشہ کے بستر پر مجھ سے خدا کلام کرتا ہے اس لئے تم کس طرح اس کی برابری کر سکتی ہو۔( بخاری کتاب المناقب باب فضل عائشہ) یعنی آپ کی ترجیحات بھی اپنے اللہ کی محبت کے نتیجے میں تھیں اور اللہ بھی آپ کے پیار پر نظر رکھتا تھا اور اس بستر کو وحی کا مورد بنادیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند کا بستر تھا۔