اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 29
حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۹ خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۸۳ء حضرت عائشہ اس قسم کی ایک وحی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔یعنی ایک ایسا واقعہ بیان کرتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے۔جس وحی کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے یہ اُن وحیوں میں سے ایک تھی جو اس رات نازل ہوئی۔حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ عائشہ سے پوچھا کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی بات بتائیں جو آپ کو بہت ہی عجیب معلوم ہوتی ہو۔اس پر حضرت عائشہ رو پڑیں اور ایک لمبے عرصے تک روتی رہیں اور جواب نہ دے سکیں پھر یہ فر مایا کہ آپ کی تو ہر بات عجیب تھی میں کس بات کا ذکر کروں۔پھر عرض کیا ایک رات میری باری تھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بستر میں داخل ہوئے۔یہاں تک کہ آپ کی جلد میری جلد کو چھونے لگی۔پھر فرمایا کہ اے عائشہ ! کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیں گی کہ میں اپنے رب کی عبادت میں یہ رات گزار دوں۔کتنا حیرت انگیز وجود ہے۔کیسا حیرت انگیز کلام ہے۔رات کو داخل ہوتے ہیں اپنی بیوی کے بستر میں اور اجازت مانگتے ہیں اُس سے کہ تمہارا حق ہے یہ باری تمہاری ہے لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ آج ساری رات اپنے رب کی عبادت کروں تو کیا تم مجھے اس کی اجازت دو گی۔اس پر حضرت عائشہ کہتی ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یقیناً مجھے تو آپ کا قرب پسند ہے اور مجھے آپ کی خوشنودی مقصود ہے میں آپ کو خوشی سے اجازت دیتی ہوں۔اس پر حضور اُٹھے اور گھر میں لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف گئے وضو کیا اور پھر نماز پڑھنے لگے اور قرآن کریم کا بعض حصہ تلاوت فرمایا اور پھر رونے لگے۔یہاں تک کہ آپ کے آنسو دونوں کلوں پر بہر آئے۔پھر آپ بیٹھ گئے اور خدا کی حمد اور تعریف کی اور پھر رونے لگے۔پھر آپ نے اپنے ہاتھ اُٹھائے اور پھر رونے لگے۔یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ آپ کے آنسوؤں سے زمین تر ہوگئی۔یہاں تک کہ وہ رات گزرگئی اور صبح نماز کے وقت حضرت بلال آپ کو نماز کے لئے بلانے آئے۔اس وقت بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔حضرت بلال نے دیکھا تو عرض کیا رسول اللہ ! آپ رور ہے ہیں کیا آپ کے متعلق اللہ نے یہ خوشخبری نہیں دی۔لِيَغْفِر لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنبك وَمَا تَأَخَّر ترجمہ: یعنی یہ کہا اے رسول اللہ! اللہ تو آپ کو معاف فرما چکا ہے مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنبِكَ وَمَا تاخر آپ کی پچھلی غلطیوں کو بھی اور آئندہ آنے والی امکانی غلطیوں کو بھی اس خدا نے معاف فرما دیا