اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 309

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات نسلیں سنور جائیں گی۔۳۰۹ خطاب ۱۷ مرا کتوبر ۱۹۹۲ء آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم نماز پر قائم ہو جاؤ تو پھر تمھیں کوئی خطرہ نہیں“ نماز خود تمھیں سنبھال لے گی۔پس آپ اپنے بچوں کی عبادت کی طرف توجہ دیں اور یہ توجہ بچپن ہی سے ہونی چاہئے بڑے ہو کر جو باتیں بچپن میں عادت کا حصہ نہ بن سکیں۔عادت کا حصہ بڑی مشکل سے بنا کرتی ہیں۔بچوں کے رحجانات ماں باپ کے کردار سے بنتے ہیں۔اگر اپنے ماں باپ کو وہ محبت اور پیار سے خدا کی عبادت کرتے دیکھیں تو ان کے دل میں بھی چھوٹے چھوٹے معصوم دلوں میں بھی وہ شوق پیدا ہو جاتے ہیں وہ اپنے رنگ میں نمازوں میں شامل ہوتے اور ماؤں کے دل ٹھنڈے کرتے ان کی آنکھوں کا نور بنتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہماری ان اداؤں کو بڑے پیار اور محبت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔اگر وہ عبادت کی محبت ماؤں کی آنکھوں میں نہ ہو تو بچوں کے دل میں کوئی پیغام نہیں پہنچے گا کوئی جذبہ ان کے دلوں میں نہیں جاگے گا جو پھر ساری زندگی ان کو جگائے رکھے۔پس ابتدا ء کی جو ادائیں ہیں ماں باپ کی وہ بچے کی تقدیر بنا بھی رہی ہوتی ہیں اور بگا ڑبھی رہی ہوتی ہیں۔پس آپ اپنے گھروں میں اپنی نمازیں سنوار کر پڑھنا سیکھیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جن ماؤں کو عادت ہوتی ہے تیم کرنے کی ان کی اولا د بھی آگے تیم کرتی چلی جاتی ہے۔جن ماؤں کو عادت ہوتی ہے بیٹھ کر تیم نماز پڑھنے کی چھوٹے چھوٹے بہانے استعمال کر کے بیٹھ جاتی ہیں اور بیٹھ کر نمازیں پڑھتی ہیں ان کی اولاد بھی نمازوں میں بیٹھ جاتی ہے۔پس آپ نے نمونے قائم کرنے ہیں اور نماز کا احترام قائم کرنا ہے قادیان میں مجھے یاد ہے کہ احمدی خواتین بہت اہتمام کیا کرتی تھیں سخت سردی میں بھی جب کہ گرم پانی بھی کوئی انتظام نہیں ہوا کرتا تھا صبح صبح اُٹھ کر وہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرتی تھیں۔میں نے شاید پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ ایک احمدی بچی کا میں بہت ممنون ہوں جو جلسہ سالانہ میں کام کرنے آیا کرتی تھی اور میں چھوٹا سا تھا۔میں نے اس وقت اس بچی کو دیکھا شدید سردی میں باہر عام کپڑوں میں ملبوس۔خاص گرم کپڑے بھی نہیں تھے وہ ٹوٹی سے بہت ہی ٹھنڈے پانی سے وضو کر رہی تھی۔اس کا میرے دل پر ایسا گہرا اثر پڑا کہ میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ کبھی کوئی حال ہو بغیر وضو کے تیسم سے نماز نہیں پڑھنی اور اس چھوٹی سی بات نے اگر میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ ساری زندگی کے لئے وہ نقش ہوگئی تو میں سوچتا ہوں اور میرا تجربہ بھی یہی ہے کہ ماؤں کی ادائیں بچوں کے دل پر بہت گہرا اثر کرتی ہیں پس آپ اپنی اولا د کو نمازی بنادیں اور نماز