اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 308
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات خطاب ۱۷ مرا کتوبر ۱۹۹۲ء میں قدم مشکل سے اُٹھتے ہیں اور انسان بوجھ محسوس کرتا ہے۔اسی لئے ذمہ داریوں کو ایک طرف پھینکنے کا رجان انسانی فطرت میں ہے اور کمزوریوں کو اختیار کرنے کا رحجان بھی انسانی فطرت میں داخل ہے تبھی بار بار نصیحت کا حکم ہے۔اور اللہ تعالی نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ: فَذَكَّرُ انْ نَّفَعَتِ الذِّكْري ( الاعلى:١٠) ذکر کا مطلب ہے شدت کے ساتھ اور بار بار نصیحت کرتے چلے جاؤ۔إِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْری ہم تمھیں یقین دلاتے ہیں کہ بظاہر نصیحت بے اثر بھی ہو تو حقیقت میں اثر کرتی ہے اور اگر صبر کے ساتھ نصیحت کرو گے تو وہ ضرور رنگ لائے گی اور ضرور فائدہ پہنچائے گی۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ہاتھوں جو عظیم معجزہ رونما ہو اور دعاؤں کی برکت سے تھا اور مسلسل نصیحت کے ذریعہ تھا۔یہی دعا آپ ﷺ کے ہتھیار تھے۔اول ہتھیار دعائیں اور دوسرا ہتھیا رایسی نصیحت کرنا جس میں آپ تھکتے نہیں تھے۔مسلسل نصیحت کرتے چلے جاتے تھے۔پس نصیحت کو قبول کرنے والے بالآخر قبول ضرور کرتے ہیں۔لیکن شرط یہ ہے کہ نصیحت کرنے والا تھک نہ جائے اور رستے میں ہار کہ بیٹھ نہ رہے۔حضرت اسماعیل کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ آپ ہمیشہ اپنی اولاد کو نماز کی نصیحت کرتے رہے اور کرتے رہے اور کرتے رہے کبھی نہیں تھکے آخر زندگی تک آپکا یہی دستور تھا کہ اپنی اولاد کو نمازوں پر قائم ہونے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ہر نبی انبیاء میں سے نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔لیکن اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بعض انبیاء کی بعض خاص اداؤں کو بڑے پیار اور محبت سے ہمارے سامنے پیش فرمایا اور ہمیشہ کے لئے انکا ذکر محفوظ کر دیا جہاں تک حضرت اسماعیل کا تعلق ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ جو انھوں نے عظیم کردار ادا کیا اس کے علاوہ ان کا ذکر نماز میں قیام کی کوشش میں ملتا ہے اور اس پتے لق و دق صحراء میں جبکہ نماز سے چہرہ پھیرنے کے لئے کوئی اور محرکات بھی نہیں تھے نماز کی طرف انکا اتنا گہرا توجہ دینا معنے رکھتا ہے۔آپ کے ماحول میں ایک اور قسم کا لق و دق صحرا ہے ایک ایسا لق و دق صحراء ہے جو عبادت سے توجہ کو پھیر نے والا ہے اور تمام اثرات ایک طرف اور یہ جدید نغموں کا شوق ایک طرف یہ اکیلا ہی نسلوں کے مزاج بگاڑنے کے لئے کافی ہے اور بچوں کو نماز کی لذت سے نابلد کرنے اور نا آشنا ر کھنے کے لئے ایک بہت خطر ناک رجحان پیدا کرتا ہے۔اس لئے میں ایک نصیحت تو آپ کو یہ کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کی عبادت کی حفاظت کریں۔اگر بچے نمازی رہے جیسا کہ میں نے جمعہ پر بھی یہ اعلان کیا تھا تو آپ کی آئندہ