اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 297

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۹۷ خطاب ۱۲؍ ستمبر ۱۹۹۲ء آپ پر درود اور سلام بھیجنے والے پیدا ہوں گے کیونکہ جو شخص آپ کی تبلیغ سے مسلمان ہوگا اللہ کے فضل سے اس کی آئندہ ساری نسلیں بھی آپ کے زیر ا حسان رہیں گی اور قیامت تک وہ جتنے نیک کام کریں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وعدے کے مطابق ان کی نیکیاں آپ کے نام لکھیں جائیں گی کیونکہ جو شخص بھی ایک نیکی کا سلسلہ جاری کرتا ہے اللہ کے فضل کے ساتھ ثواب میں اس کو شامل کر لیا جاتا ہے جبکہ خدمت ، نیکی کرنے والے کے حصے میں سے کچھ بھی کا ٹا نہیں جاتا۔تو یہ اللہ کا حساب ہے جو اس طرح چلتا ہے تو میں آپ کے سامنے چند نمونے رکھ کر اجازت چاہوں گا۔لیکن اس توقع کے ساتھ کہ آپ کے دل میں بھی ولولے پیدا ہوں۔آپ کو بھی خیال آئے کہ ہم بھی دعوت الی اللہ کے کام میں آگے بڑھیں اور اگر مرد پوری توجہ سے یہ کام نہیں کر رہے۔تو عورتیں ہی یہ کام کرنا شروع کر دیں۔بسا اوقات تاریخ اسلام میں ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جہاں مرد پیچھے رہے گئے وہاں عورتیں آگے بڑھیں اور ان کا نمونہ دیکھ کر پھر مردوں کو بھی ہوش آ گئی۔تو خدا کرے جرمنی کے مردوں کے لئے دعوت الی اللہ میں احمدی خواتین اسی قسم کا ایک زندہ کرنے والا نمونہ پیش کریں۔حضرت مصلح موعود کو بھی دعوت الی اللہ کی بہت دھن تھی۔آپ بسا اوقات احمدی خواتین کو کہا کرتے تھے کہ تم دعوت الی اللہ کا کام شروع کرو۔آپ لکھتے ہیں کہ چک منگلا اور چنڈ بھروانہ یہ علاقہ خدا کے فضل سے ترقی کر رہا ہے اور یہی وہ بہادر لوگ ہیں جن کی ایک عورت کی مثال کل میں نے اپنی افتتاحی تقریر میں بیان کی تھی وہ بیعت کرنے یہاں آئی ہوئی تھی۔کہ شام کو اُس کی بیٹی بھی یہاں آگئی اس نے کہا اماں تو نے مجھے کہاں بیاہ دیا ہے وہ لوگ تو میری بات سنتے ہی نہیں۔تو میں نے مجھے جو کتابیں دی تھیں میں انہیں پڑھ کر سناتی ہوں تو وہ سنتے ہی نہیں۔میں احمدیت پیش کرتی ہوں تو وہ ہنسی اور مذاق کرتے ہیں اور مجھے پاگل قرار دیتے ہیں۔وہ عورت کہنے لگی بیٹی ! اتو میری جگہ آکر اپنے والد اور بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کی روٹی پکا میں تیرے سسرال جاتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ کون میری بات نہیں سنتا۔میں ان سب کو احمدی بنا کر دم لوں گی۔شاید یہی عورت جلسہ سالانہ سے چندہ ماہ قبل آئی اس کے پاس ایک بچہ تھا اس نے مجھے بتایا کہ یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے وہ ربوہ نہیں آتا تھا۔میں اس کا بچہ اٹھالائی ہوں کہ وہ اس بچے کی وجہ سے تو ربوہ آئے گا۔مجھے کسی نے بتایا کہ اس کا وہ بھائی احمدیت کے قریب ہے لیکن چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے خبر دی ہے کہ اللہ کے فضل سے اب وہ احمدی ہو چکا ہے۔تو اس طرح ایک احمدی خاتون پورے خاندان کے لئے اور در حقیقت اس سارے علاقے کے