اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 298
حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۹۸ خطاب ۱۲؍ ستمبر ۱۹۹۲ء لئے ایک روشنی کا مینار بن گئی۔اگر کوئی احمدی عورت چاہے تبلیغ کرنا اور دعا کرے اور اخلاص کے ساتھ کام کرے تو یقینا وہ پھل سے محروم نہیں رہے گی۔لجنہ کے اب بہت ایسے کام ہیں جن پر میری براہ راست نظر پڑتی ہے۔پہلے تو لجنہ صدر لجنہ پاکستان کے ماتحت ہوا کرتی تھی۔اب جب سے میں نے ہر ملک کی لجنہ کو آزاد کیا ہے اور براہ راست ان کی صدروں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ان کی رپورٹیں ملتی ہیں۔میں ساری نہ بھی پڑھ سکوں تو اہم نکات نکال کر میرے سامنے رکھے جاتے ہیں تو اس سے مجھے اندازہ ہوا ہے کہ اللہ کے فضل سے بعض لجنات دعوت الی اللہ کے کام میں بہت آگے بڑھ گئی ہیں اور خدام اور انصار سے بھی آگے نکل گئی ہیں۔گزشتہ رپورٹوں میں سے ایک لجنہ کی رپورٹ کے مطابق تین گاؤں میں محض لجنہ نے ۲۷ احمدی بنائے ہیں اور یہ افریقہ کی بات ہے وہاں کی لجنہ کی خواتین دیہات میں جاتی ہیں وفد بنا کر اور اپنے رنگ میں خدا کے فضل سے تبلیغ کرتی ہیں۔اور اللہ کے فضل سے نئی نئی جماعتیں قائم کر رہی ہیں۔پنجاب میں بھی بعض لجنہ کی خواتین نے ایسا ہی کام کیا ہے۔ایک گاؤں میں لجنہ کے ذریعے سے بیعتیں ہوئی اور وہاں احمدیت کا پہلی دفعہ بوٹا لگا ہے۔بنگال میں بھی یعنی جس کو ہم پہلے مشرقی پاکستان کہا کرتے تھے وہاں کی ایک بیوہ خاتون نے بیعت کی۔اس کے بعد مزید تین خواتین کی اس نے بیعت کروائی۔اس پر شدید مخالفت ہوئی چاروں کے خاوندوں نے طلاق کی دھمکیاں دیں لیکن ان عورتوں نے کہا کہ جو چاہو کر وہم نے حق کو پالیا ہے۔ہم پیچھے ہٹنے والی نہیں تم بے شک ہمیں طلاق دے دو اور طلاق کی دھمکی کے باوجود اسی طرح تبلیغ کرتی رہیں۔اللہ کے فضل سے اب بنگال میں ان عورتوں کی قربانی کی وجہ سے ۳۰ خواتین بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو چکی ہیں اور اس گاؤں پر احمدیت - کا غلبہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔پاکستان میں جو حالات ہیں آپ جانتے ہیں۔مردوں کے لئے بھی بہت مشکل ہے کام کرنا لیکن پاکستان کی بجنات کی جور پورٹیں ملتی ہیں ان سے پتہ چل رہا ہے کہ بعض خواتین اپنے محلوں میں اور دوسری جگہ جا کر مسلسل تبلیغ کر رہی ہیں۔ایک گھرانے کو ایک احمدی خاتون نے تبلیغ کی تو سارا محلہ ان کی مخالفت پر اکٹھا ہو گیا اور ایک طوفان بدتمیزی اٹھ کھڑا ہوا۔اس تبلیغ کرنے والی خاتون کے گھر کا بائیکاٹ کر دیا گیا اس نے ان سب باتوں کے باوجود کام نہیں چھوڑا۔مسلسل لٹریچر تقسیم کرتی رہی اور اللہ کے فضل کے ساتھ اب ۷ افراد پرمشتمل ایک گھرانہ اس بچی کی تبلیغ کی وجہ سے احمدی ہو چکا ہے۔بچی