اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 285
حضرت خلیفہ مسیح الرابع سے مستورات سے خطابات ۲۸۵ خطاب ۱۲؍ ستمبر ۱۹۹۲ء کے ساتھ آگے قدم بڑھاتی رہیں۔تحریک جدید کے چندے کی بات ہے لیکن اس سے پہلے بھی بہت کچھ اور باتیں بھی قابل ذکر ہیں۔چوہدری برکت علی صاحب وکیل المال لکھتے ہیں آپ کا انہیں سالہ ( یعنی حضرت اماں جان ) کا انیس سالہ حساب تحریر کرتے ہوئے یہ نوٹ دینا ضروری ہے کہ آپ نے کسی سال بھی وعدہ نہیں فرمایا بلکہ ہر سال جوں ہی سیدنا حضرت خلیفتہ امیج ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحریک جدید کے چندے کا اعلان ہوتا ہے معاً بعد آپ اپنا چندہ گزشتہ سال سے اضافہ کے ساتھ نقد ادا فرماتیں اس طرح آپ سترھویں سال تک اپنی جیب خاص سے ادا فرماتی رہیں۔آپ کی وفات کے بعد حضرت اماں جان نے آپ کی طرف سے سال ۱۸۔۱۹ کا چندہ ادا فرمایا اور یہ چندہ ابھی بھی مسلسل جاری ہے۔“ حضرت اماں جان نے جو چندہ کا معیار مقرر فرمایا تھا اب خاندان کی طرف سے وہ چندہ اسی طرح ادا کیا جا رہا ہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے نام سے ساری جماعت واقف ہے انہوں نے حضرت میر حامد شاہ صاحب کے نام ایک خط لکھا اور اس کا یہ اقتباس سنانے اور سننے کے لائق ہے فرماتے ہیں: منارہ کے لئے زمین بفضل تعالیٰ ان کو مل گئی۔حضرت اقدس کی توجہ از بس اس طرف مبذول ہے۔قوم کی طرف سے چندہ آرہا ہے مگر از بس قلیل ہے۔حضرت نے کل ایک تجویز کی۔ایک سو آدمی جماعت میں سے ایسے منتخب کئے جائیں کہ ان کے نام حکماً اشتہار دیا جاوے کہ سوسور و پید ارسال کریں خواہ عورتوں کا زیور بیچ کر۔در حقیقت یہ تجویز نہایت عمدہ ہے اور ایسی دینی ضرورتوں میں قوم کا روپیہ کام نہ آئے تو پھر کب؟ یاد رکھیں کہ اس زمانہ میں روپے کی کتنی قیمت تھی کہ دس ہزار روپے کل چاہئے تھا منارۃ المسیح کی تعمیر کے لئے اور اس کی یہ ترکیب سوجھی کہ سو آدمی اگر سوسور و پیہ دے دیں تو اتنی بڑی قربانی ہوگی کہ اس سے منارہ بھی بن جائے گا اور رہتی دنیا تک ان لوگوں کا نام یاد رکھا جائے گا۔لکھتے ہیں: بیوی صاحبہ نے ( یعنی حضرت اماں جان نے ) ایک ہزار روپیہ چندہ منارہ میں لکھوایا۔دہلی میں ان کا ایک مکان ہے اس کو فروخت کا حکم دیا ہے وہ اس چندے میں دیا جائے گا۔“ تو حضرت اماں جان نے خاموشی کے ساتھ جو ابتداء میں جو قربانیاں کی ہیں وہ عام طور پر لوگوں کے سامنے نہیں آتیں مگر چونکہ ذکر تھا عورت کی قربانی کا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ حضرت اماں جان کی قربانیوں سے ہی اس مضمون کو شروع کیا جائے۔