اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 284

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۸۴ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء تمام دنیا کی خواتین کے لئے کہ احمدی خواتین سی کوئی اور خواتین لا کر تو دکھاؤ کتنی عظمت کی زندگی ہے۔کتنے اعلیٰ مقاصد کے لئے یہ وقف ہیں اور ان کی لذتوں کے معیار بدل چکے ہیں۔تمہیں جو لذت سنگھار پٹار میں ملتی ہے مختلف قسم کی لغو لذتوں کی پیروی میں ملتی ہے۔دکھاوے، نمائش اور ناچ گانوں میں ملتی ہے۔اس سے بہت بہتر ، بہت اعلیٰ درجے کی لذتیں احمدی خواتیں کی زندگی کو منور رکھتی ہیں اور ان کے دلوں میں ایسی باقی رہنے والی لذات ہیں جو اس زندگی میں بھی ان کا ساتھ دیتی ہیں اور اُس دنیا میں بھی جہاں ہم نے سب نے مرکز آخر پہنچنا ہے۔تو کچھ تعارف میں نے کروایا تھا اور کچھ تعارف آج کرواؤں گا کہ احمدی خواتین دنیا میں مثبت اقدام کے طور پر کیا کچھ کر رہی ہیں۔قوموں کی زندگی میں کتنا بھر پور حصہ لے رہی ہیں اور جیسا کہ میں نے یہ پہلے بھی کہا ہے دنیا بھر کی تمام قوموں کی خواتین سے مقابلہ کر کے دیکھیں کسی قوم میں خواتین کی اتنی بھاری تعداد اتنے مثبت کاموں میں اور مفید کارآمد کاموں میں مصروف دکھائی نہیں دے گی جیسے کہ احمدی خواتین دکھائی دیتی ہیں۔آج میں مالی قربانیوں سے متعلق مضمون شروع کرتا ہوں۔یہ تو بہت وسیع مضمون ہے۔ایک سمندر ہے احمدی خواتین کی مالی قربانیوں کا جسے کوزے میں سمونا بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن کام ہے۔نمونہ میں نے چند باتیں چنی ہیں آپ کے سامنے رکھنے کے لئے تا کہ آپ کو بھی یادر ہے کہ آپ کون ہیں، کس مقام اور مرتبے سے تعلق رکھتی ہیں۔آپ کے آنے والی نسلیں بھی اس بات کو یا درکھیں کہ کن ماؤں اور کن دادیوں کی بیٹیاں اور ان کی نسلوں سے تعلق رکھنے والی ہیں۔اور باہر کی خواتین بھی پتہ تو کر میں آپ ہیں کون؟ آپ نے اپنے اندر کیا کیا داگی حسن چھپارکھا ہے؟ حضرت اماں جان سے بات شروع کرتا ہوں۔حضرت اماں جان نے ہر قسم کے چندوں میں جماعت احمدیہ کی خواتین کے لئے ایسے پاک اور دائمی نمونے پیچھے چھوڑے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دوڑ میں کوئی تیز رفتار جوان مضبوط آگے بڑھ کر رفتار کے معیار مقرر کرتا ہے اور دوسرے ساتھی اگر اس معیار پر پورے اتریں تو مقابلے میں شامل رہتے ہیں ورنہ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔اسی طرح اگر خواتین نیک کاموں میں دوڑیں لگا رہی ہیں تو آپ کو اس دوڑ والے قافلے کے سر پر حضرت اماں جان حضرت نصرت جہاں بیگم دکھائی دیں گی۔واقعہ ہے، اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ مالی قربانی کیسے کی جاتی ہے اس کے نمونے حضرت اماں جان نے اس زمانہ میں دکھا دئے اور اللہ کے فضل سے احمدی خواتین نے پھر کوئی کمی نہیں کی بلکہ مسلسل اسی راہ پر اسی شان کے ساتھ ، اسی ولولے اور جذ بے