اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 280
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۸۰ خطاب کیکم اگست ۱۹۹۲ء جذبات ظاہر کر کے خواہ مخواہ ریاء کار بنوں مگر پھر دل نے کہا کہ خاوند سے بھی کوئی بات پوشیدہ رکھی جاتی ہے۔اس لئے اب میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میں بالکل مطمئن ہوں اور اپنے آپ میں بہت خوشی محسوس کرتی ہوں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس شاندار قربانی کا موقع عطا فر مایا۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ایسی کتنی ہوں گی جن کی قربانیوں کو زبان نہیں ملی۔وہ اس وہم میں مبتلا خاموشی اور صبر کے ساتھ وقت گزار گئیں کہ کہیں خدانخواستہ ہمارا یہ اظہار ریاء کاری میں شامل نہ ہو جائے۔بہر حال احمدی خواتین کی قربانیوں کی ایک عظیم طویل داستان ہے جو حقیقت میں نہ ختم ہونے والی ہے اور قیامت تک جاری ہونے والی ہے۔آپ اپنی قربانیوں سے آج جو داستانیں لکھ رہی ہیں وہ بھی زندہ رہیں گی۔اور ہمیشہ ہمیش کے لئے عزت اور احترام کے ساتھ پڑھی جائیں گی اور سنی جائیں گی اور کل آپ کی کوکھ میں پیدا ہونے والے بچے جو قربانیاں پیش کریں گے ان کی قربانیاں بھی تا ابد زندہ رہیں گی اور زندہ جاوید رہیں گی۔خواتین کا قوموں کو بنانے اور بگاڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔یہی احمدی خواتین اگر سنگھار پٹار کی عادی ہو تیں یعنی اس شوق میں مبتلا ہو چکی ہوتیں ویسے تو ہر عورت کا حق بھی ہے۔شوق بھی ہے۔ایک طبعی بات ہے۔سجنا اس کی فطرت میں داخل ہے لیکن ایک سجنا سطحی نظر کے ساتھ ہوتا ہے۔توفیق ملے، وقت ملے تو ٹھیک ہے۔ایک ہوتا ہے کہ عورت سجنے کی غلام بن جایا کرتی ہے۔جو عورتیں اپنی سجاوٹ کی غلام ہو جایا کرتی ہیں وہ قوم کے لئے کبھی کچھ نہیں کر سکتیں۔وہ خواتین ہی ہیں جو قوم کے لئے ہمیشہ عظیم قربانی دیا کرتی ہیں۔جن کی اولیت مقاصد میں ہوا کرتی ہے۔دنیا دار قوموں میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں گو بہت کم لیکن ہوتی ہیں۔مقاصد کے لئے قربانی پیش کرنا دراصل یہ وہ چیز ہے جو کسی انسان کو جاودانی بنا دیا کرتی ہے۔احمدی خواتین میں خدا کے فضل کے ساتھ مقاصد کے لئے قربانی پیش کرنے کا جذبہ اتنا زیادہ ہے اور اس کثرت سے ملتا ہے کہ اس کا شمار ممکن نہیں ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ لازم ہے کہ کبھی کبھی اس داستان کو دہرایا جاتا رہے تا کہ ان کے لئے دعاؤں کی بھی تحریک ہوتی رہے اور آئندہ آنے والی نسلیں ان سے جوش اور ولولہ حاصل کریں۔سیدہ رشیدہ بیگم صاحبہ نے اپنے بیٹے سید سعید احمد صاحب قادیانی متعلم جامعہ احمد یہ قادیان کو لکھا: عزیزم قادیان میں رہو۔آج آپ لوگوں کے امتحان کا وقت ہے۔دعا ہے کہ خدا تم کو امتحان میں کامیاب کرے۔دوبارہ تاکید ہے کہ بلا اجازت حضرت امیر المومنین کے کسی صورت میں بھی قادیان سے نہ آئیں۔کیوں کہ اب ایمان کی آزمائش کا وقت ہے۔خدا سے دعا ہے کہ تم اپنے ایمان کا بہتر نمونہ