اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 279 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 279

حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۲۷۹ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء مدد کرے گا۔ہم تمہارے ماں باپ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔پھر مکرم خواجہ محمد اسماعیل صاحب بمبئی کی بیگم محترمہ حبیبہ صاحبہ نے لکھا: کل حضرت امام جماعت احمدیہ کا ایک مضمون ” جماعت احمدیہ کے امتحان کا وقت الفضل ۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء میں شائع ہوا ہے۔اپنے خاوند کولکھ رہی ہیں کہ وہ آپ کو بھیج رہی ہوں گو پہلے بھی میں نے آپ کو قادیان رہنے سے روکا نہیں تھا۔لیکن کل حضور کا مضمون پڑھنے کے بعد میں نے سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے اللہ ! میں اپنا سارا سرمایہ شرح صدر سے تیرے رسول کی تخت گاہ کی حفاظت کے لئے پیش کرتی ہوں اوراے میرے خدا تو قادر ہے تو ان کو دین کی خدمت کا موقعہ دیتے ہوئے بھی اپنی حفاظت میں رکھ۔۔۔آمین اس وقت میں زیادہ نہیں لکھ سکتی۔اللہ تعالیٰ قادیان کو سلامت رکھے اور سلامتی کے ساتھ ہمیں ملائے۔آمین محترمہ امتہ اللطیف صاحبہ نے لاہور سے اپنے خاوند مکرم ڈاکٹر محمد احمد صاحب کو ایک خط میں لکھا: اب میری بھی یہی نصیحت ہے اور اماں جی کی بھی یہی نصیحت ہے ( یہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے بیٹے تھے ڈاکٹر محمد احمد صاحب۔ان کی بہو جب اماں جی کہتی ہیں تو مراد ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کی بیگم جواب فوت ہو چکی ہیں ) کہ وہاں پر خدا کے بھروسے پر بیٹھے رہیں۔اللہ تعالیٰ وہاں پر ہی حفاظت کرے گا اور ایمان رکھنے والوں کو ضائع نہیں کرے گا۔آپ اجازت لینے کی بھی کوشش نہ کریں۔ہم سب کو خدا کے حوالے کر دیں۔میری طرف سے آپ اطمینان رکھیں۔میں اتنی بزدل نہیں ہوں میرا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط ہے۔اگر اس کی طرف سے ابتلاء آنا ہے تو ہر طرح آنا ہے۔بس یہی دعا ہے کہ ہر وہ طرح ثابت قدم رکھے اور ہمارا ایمان کسی طرح متزلزل نہ ہو جائے۔یہ خط ۱۰ را کتوبر ۱۹۴۷ کی تاریخ کا یہ خط ہے۔ہمارے ایک واقف زندگی مقصود احمد صاحب مرحوم کے ساتھ میرا پرانا تعلق رہا۔وہاں گنری میں فیکٹری میں ہوا کرتے تھے۔بہت ہی نیک مزاج، نیک فطرت ، خاموش، صبر ورضا کے لحاظ سے ویسے باتیں کافی کر لیتے تھے۔ہمارے مولود صاحب جو ہمارے امام بیت لندن رہے ہیں یہ ان کے بھائی تھے۔ان کی بیگم صالحہ عفیفہ بہت ہی مخلص اور فدائی تھیں۔انہوں نے اپنے خاوند کو جب وہ قادیان ہوا کرتے تھے لکھا: آپ سوچتے ہوں گے کہ میری بیوی بھی کیسی دنیا دار ہے کہ ایک دفعہ بھی اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ قربانی کی گئی ہے جس کا دل پر ہرگز ملال نہیں ہونا چاہئے مگر کی پو چھٹے اور یقین جانئے میں یہ باتیں پوشیدہ ہی رکھنا چاہتی تھی۔میں سوچتی تھی کہ اپنے