اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 24

حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۴ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء يَايُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَ تُرِدْنَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتَّعُكُنَّ وَأُسَرِحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا (الاحزاب : ۳۰،۲۹) ”اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو۔تو آؤ میں تمہیں کچھ دنیاوی سامان دے کر رخصت کرتا ہوں اور احسن اور نیک طریق سے تمہیں رخصت کروں گا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اخروی زندگی کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے پوری طرح اسلام پر قائم رہنے والیوں کے لئے بہت بڑا اج تجویز فرمایا ہے۔“ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صبح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات رور ہی تھیں اور ہر بیوی کے پاس اس کے گھر والے اکٹھے ہورہے تھے۔عجیب دردناک منظر تھا۔میں مسجد گیا تو وہ لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔حضرت عمرؓ آئے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم چوبارے پر تھے۔حضرت عمرؓ کو کسی نے جواب نہ دیا پھر انہوں نے سلام کیا۔پھر جواب نہ دیا۔پھر تیسری دفعہ سلام کیا تو اجازت ملی۔حضرت عمر اندر چلے گئے اور پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے ایلاء کیا ہے۔اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد میں ایک ماہ تک اپنی بیویوں سے علیحدہ رہوں گا اور ان کو یہ موقع دوں گا کہ وہ خوب غور کر لیں کہ ان دونوں چیزوں میں سے انہیں کیا اختیار کرنی ہے۔شدید محبت اور شفقت کے باوجود اصول کے معاملوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر متزلزل تھے۔جذبات نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عقل پر حکومت نہیں کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر حکومت نہیں کی بلکہ ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عقل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار جذبات کے حاکم رہے۔چنانچہ جب یہ اختیار دیا گیا تو سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کہ دیکھو تم اپنے ماں باپ سے پوچھ لو اور مشورہ کر لواور پھر مجھے بتاؤ کہ کیا فیصلہ ہے؟ حضرت عائشہ جواب میں کہتی ہیں کہ مجھے ماں باپ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے میرے دل کا فیصلہ تو ہو چکا ہے۔وہی فیصلہ ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم