اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 273

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۷۳ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء صورت میں لکھی گئیں۔چند ایک کے تذکرے آپ کے سامنے آئیں گے لیکن اندازہ کریں کہ ان میں سے ہر ایک نے اتنی قربانیاں دی ہیں اور ہر روز قربانیاں دی ہیں کہ اگر ان کی داستان لکھی جائے تو شاید سالہا سال تک پڑھی جائے تب بھی ختم نہ ہو لیکن میں آپ کو ایک یقین دلاتا ہوں کہ وہ داستانیں لکھی گئی ہیں اور لکھی جارہی ہیں۔وہ آسمان کے نوشتوں پر لکھی گئی ہیں۔اس خدا کے فرشتوں نے لکھی ہیں جو فرماتا ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جو نہ چھوٹے کو چھوڑتی ہے نہ بڑے کو اور ہر چیز اس میں تحریر کی جارہی جونہ کو نہ اور کی ہے۔پس آسمان پر وہ قربانیاں لکھی گئیں اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ان کے اجر لکھے گئے ہیں۔ان میں سے ایک ذرہ بھی ضائع نہیں گیا۔انسان تو انسان کی قربانیوں اور خدمتوں کو بھول جایا کرتے ہیں مگر اللہ کبھی نہیں بھولتا۔اس لئے ہم جو انسانوں کو سناتے ہیں محض اس لئے کہ ان کے اندر بھی قربانیوں کے ولولے پیدا ہوں ورنہ یہ سنانا ان عظیم عورتوں کی قربانیوں کی جزا نہیں ہے جزاء تو صرف خدا کے پاس ہے اور وہی ہے جو ہمیشہ ان کو جزاء دیتا چلا جائے گا۔اب میں مختصراً آپ کے سامنے ایک لسٹ پڑھ کرسنا دیتا ہوں کیوں کہ اور بھی بہت سی باتیں کرنے والی ہیں۔مبلغین کرام کی بیویاں جن کے خاوند تبلیغ کیلئے لمبا عرصہ ملک سے باہر رہے اور انہوں نے یہ وقت بغیر خاوندوں کے گزارا۔ان میں سر فہرست حکیم فضل الرحمن صاحب ہیں۔حکیم صاحب ۲۳ سال نائیجریا میں رہے۔پہلے سات سال مسلسل ، پھر ۶ اسال مسلسل۔دونوں مرتبہ ان کی بیوی نے اکیلے وقت گزارا ہے اور آپ جانتی ہیں کہ شادی کے بعد عورت کی جو شادی کی خوشیوں کی جو زندگی ہے وہ بمشکل ۲۳ سال تک چلتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے بوجھ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اور غربت اگر ہو تو پھر تو اور بھی مصیبت بنتی ہے اور بعد میں تو زندگی گھسیٹنے والی بات ہے تو خاوند کی ۲۳ سال کی جدائی کے بعد اس کا کیا باقی رہا ہوگا اور کونسی خوشیاں اس نے زندگی میں دیکھی ہوں گی یا اپنے بچوں کو خوشیاں دکھائی ہوں گی۔پھر مکر مہ رفیقہ بیگم صاحبہ اہلیہ غلام حسین صاحب ایاز ہیں۔ایاز صاحب مسلسل ساڑھے پندرہ سال سنگا پور میں رہے۔اب تو سنگا پور یوں لگتا ہے کہ چھلانگ لگاؤ تو سنگا پور چلے جاؤ۔اس زمانے میں جب کہ قادیان سے سنگا پور نسبتاً بہت نزدیک ہے۔اتنی دور دکھائی دیتا تھا اور جماعت اتنی غریب تھی کہ سنگا پور بھیج کر و یا جماعت نے کالے پانی بھجوا دیا اور عمر قید دے دی کیوں کہ عمر قید سولہ سال کی ہوتی ہے۔ساڑھے پندرہ سال عمر قید کے برابر کا عرصہ ہے۔یہ عرصہ سنگا پور بھیج کر وہاں سے بلانے کی توفیق نہیں تھی۔