اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 270

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۷۰ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء جتنا پیچھے رہ جانے والے تکلیف محسوس کیا کرتے ہیں۔اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے مبلغین نے جو قربانیاں تبلیغ کے میدان میں پیش کی ہیں وہ پیچھے چھوڑی جانے والی اپنی بیویوں اور بچیوں کی نسبت زیادہ سخت قربانیاں تھیں بلکہ میرا دل یہی گواہی دیتا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس تھا۔مرد تو باہر کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ان کے دل بہلانے کے اللہ تعالیٰ اور رنگ میں سامان کرتا چلا جاتا ہے۔مگر جو بیویاں خاوندوں کی زندگی میں بیواؤں کی طرح زندگی بسر کر رہی ہوں وہ بچے جو اپنے باپوں کی زندگی میں یتیموں کی سی حالت میں دن گزار رہے ہوں ان کی کیفیت تو وہی جان سکتے ہیں جنہوں نے وہ کچھ دیکھا ہو۔کسی شاعر نے خوب کہا ہے کہ ع گجا دانند حال ما سبک سارانِ ساحلها کہ ہم سمندر کی موجوں سے کھیل رہے ہیں اور طوفان کی موجوں سے ہمیں ہر دم خطرہ ہے اور شب تاریک بھی حائل ہے شب موج بھی ہے۔لیکن ” گجا دانند حال ما سبک ساران ساحلها‘ جوساحل پر ہلکے پھلکے قدم سے چلتے ہیں۔انہیں کیا پتہ کہ ہم کیسے دکھوں میں مبتلا ہیں۔لیکن کچھ اندازہ ہم کر سکتے ہیں کہ کیسی کیفیات میں انہوں نے دن گزارے ہوں گے۔حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ افریقہ کی زندگی بھی بہت لمبا عرصہ باہر گزری۔ان کے متعلق شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اپنی کتاب ”مرکز احمدیت قادیان میں لکھتے ہیں: ”اب ان کو گئے بارہ برس کے قریب ہو گئے ہیں۔( یعنی حکیم صاحب کو اپنے بیوی بچوں کو پیچھے چھوڑ کر گئے ہوئے ۱۲ برس ہو گئے ہیں ) ان کی بیوی جو شیخ فضل حق صاحب بٹالوی کی صاحبزادی ہیں کی یہ قربانی کوئی معمولی قربانی نہیں ہے۔وہ اپنی بیوی کو جوانی کی حالت میں چھوڑ کر گئے تھے۔اب ۱۲ سال کے بعد جب وہ آئیں گے تو شاید ان کو بڑھاپے کے دروازے پر کھڑا دیکھیں گے۔یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی ۱۲ برس گزرے تھے۔۱۶ برس کے بعد حکیم صاحب آۓ۔انہوں نے اس دروازے پر بھی کھڑا نہیں دیکھا بلکہ بڑھاپے میں داخل ہوچکی تھیں تو پھر وہ واپس تشریف لائے۔حضرت خلیفة المسیح الثانی حکیم فضل الرحمن صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مکرم فضل الرحمن صاحب جو حال ہی میں فوت ہوئے ہیں وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی مغربی افریقہ میں (تبلیغ) کے لئے چلے گئے تھے اور ۱۳ ۱۴ سال تک باہر رہے۔جب وہ واپس آئے تو ان کی بیوی کے