اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 269
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۶۹ 66 اپنے عقائد میں تبدیلی نہیں کروں گی۔“ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء پس جیسا عظیم وہ خاوند تھا ویسی ہی عظیم ان کی بیگم بھی تھیں اور ماں کا اپنے بچوں کو اس طرح بکریوں کی طرح خدا کے حضور پیش کر دینا اور پھر اس خوشی اور اس یقین کے ساتھ اور اس صداقت کے ساتھ یہ جو فقرہ ہے سادہ سا ہے لیکن اس میں گہری صداقت ہے ان کا یہ اظہار کہ بال بھر بھی اپنے عقائد میں تبدیلی نہیں کروں گی۔اور جیسا کہ اس زمانہ کے لوگ پٹھانوں کے مزاج کو جانتے تھے کہ وہ ذرہ بھر بھی اپنے قول سے متزلزل نہیں ہوا کرتے تھے۔پس انہوں نے جو کچھ کہا یہ بعینہ ان کے دل کی کیفیت تھی اور اگر ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچوں کو ذبح کر دیا جاتا تو وہ اسر مواحدیت سے بھی انحراف نہ کرتیں۔پھر آپ کی بہوؤں کے متعلق قربانیوں کے ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ ملتے ہیں کہ انہوں نے نظر بندی کے زمانے میں بہت خطرناک تکلیفوں اور بھوک اور پیاس کے دکھ برداشت کرتے ہوئے کس طرح احمد بیت پر ثبات قدم دکھایا اور اپنے بچوں کی بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی تربیت کی جواب خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک جاری وساری کہانی بن گئی ہے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی اولاد میں نسلاً بعد نسل اسی خلوص کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں جو اس عظیم قربانی کے خون میں دکھائی دیا کرتی تھیں۔ان کا ورثہ آگے نسلوں میں جاری کرنے میں ماؤں نے دخل دیا ہے۔یہ میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔یہ بات یا درکھئے کہ ایک انسان خواہ کتنی ہی بڑی عظیم قربانی کیوں نہ پیش کرے اگر اس کی بیوی اس کا ساتھ نہ دے تو اولا دضائع ہو جایا کرتی ہے۔اولاد میں یہ نیکیاں نہیں چلا کرتیں۔اس قربانی کی صداقت اس کی بیوی کی وساطت سے اس کی اولا د میں پہنچی ہے۔اس کی اولاد میں مردوں کی صداقت ان کی بیویوں کی وساطت سے ان کی اولاد میں پہنچی ہے۔پس آج ساری دنیا میں پھیلی ہوئی حضرت صاحبزادہ صاحب کی اولادان ماؤں کو بھی خراج تحسین پیش کر رہی ہے جن ماؤں نے ان کی عظمت کردار کو مستقل بنانے میں یہ عظیم حصہ لیا۔بعد کے دور میں آپ تاریخ میں یہ واقعات تو کثرت سے پڑھتی ہوں گی کہ کس طرح افریقہ میں جماعت پھیلی۔کس طرح امریکہ میں جماعت پھیلنے کا آغاز ہوا۔کس طرح یورپ میں قربانیاں پیش کی گئیں۔کس طرح مشرق میں اور کس طرح مغرب میں لیکن بہت کم لوگوں کے سامنے ان خواتین کی قربانیاں آتی ہیں جنہوں نے محض اپنے خاوندوں کو خدمت دین کی بھٹی میں نہیں جھونکا بلکہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ خود کس کس دکھ میں مبتلا ہو کر صبر کے ساتھ انہوں نے وہ دن کاٹے ہیں۔میرا تجربہ یہی ہے کہ جانے والا اتنی تکلیف محسوس نہیں کرتا