اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 268

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۶۸ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء کے ایک مشورے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اماں جان کو لکھا کہ بتائیے آپ کی کیا منشاء ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل نے ایک مشورہ دیا کہ یوں کرو اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کے دل میں اپنی والدہ کا جو ایک خاص مقام تھا اس کے پیش نظر انہوں نے مناسب سمجھا کہ میں ان سے بھی مشورہ کرلوں۔اس کے جواب میں حضرت اماں جان نے لکھا: خط تمہارا پہنچا۔سب حال معلوم ہوا۔(اس وقت حضرت مولوی صاحب کو حضرت اماں جان مولوی صاحب کہا کرتی تھیں اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانے سے یہی رواج تھا۔حضرت۔۔۔کہنے کی بجائے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانہ میں جو کہتی تھیں وہی بعد میں کہتی رہیں تو لکھتی ہیں کہ خط تمہارا پہنچا۔سب حال معلوم ہوا ) مولوی صاحب کا مشورہ ہے کہ پہلے حج کو جاؤ اور میرا جواب یہ ہے کہ میں تو دین کی خدمت کے واسطے تم کو اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دے چکی ہوں۔اب میرا کوئی دعویٰ نہیں۔وہ جو کسی دینی خدمت کو نہیں گئے بلکہ سیر کو گئے۔ان کو خطرہ تھا اور تم کو کوئی خطرہ نہیں۔خدا وند کریم اپنے خدمت گاروں کی آپ حفاظت کرے گا۔میں نے خدا کے سپر د کر دیا۔تم کو خدا کے سپرد کر دیا۔خدا کے سپر د کر دیا اور سب یہاں خیریت ہے۔“ یہ وہ روح تھی جس روح نے آگے احمدی خواتین میں پرورش پائی ہے۔اور نشو ونما کے نتیجہ میں خوب پروان چڑھی ہے۔اب بعض دوسری خواتین کے تعلق باللہ اور دین کی خاطر ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے چند واقعات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔سب سے پہلے سید الشہداء حضرت سیّد عبداللطیف صاحب ( کی اہلیہ ) کے متعلق تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۳۴۹ میں درج ہے کہ جب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف کو قربان کر دیا گیا تو حکومت افغانستان کی طرف آپ کی اہلیہ اور بچوں پر بہت مظالم ڈھائے گئے۔اور ان کو ایک جگہ نظر بند کر دیا گیا۔وہ ایسے مظالم ہیں کہ ان کے ذکر سے کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر انہوں نے قابل رشک صبر واستقلال کا نمونہ دکھایا۔آپ کی اہلیہ ہر موقع پر یہی فرماتی رہیں کہ : اگر احمدیت کی وجہ سے میں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے قربان کر دئیے جائیں تو میں اس پر خدا تعالیٰ کی بے حد شکر گزار ہوں گی۔اور بال بھر بھی