اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 267
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۶۷ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء ہزار میں سے ایک بھی نہیں تھا۔اس سے بھی کم جنہوں نے عیسائیت کے لئے عظیم الشان قربانیاں کی ہیں۔لیکن دنیا میں ایک ہی جماعت ہے اور صرف ایک جماعت ہے جس کی تمام تر خواتین خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اپنے دل و جان کے ساتھ اس عظیم خدمت پر مامور ہیں۔پس انصاف کا تقاضا ہے کہ دوسروں کی خوبیوں کا بھی ذکر کیا جائے اور اپنی خوبیوں کا بھی اور صداقت پر مبنی موازنہ کیا جائے۔لیکن ایک اور فرق بھی تو ہے۔ان کی قربانیاں کھلے عام لوگوں کے سامنے چلتی پھرتی ہیں اور دکھائی دیتی ہیں۔ہماری خواتین کی قربانیاں پس پردہ ہیں۔اس میں دکھاوے کا کوئی بھی دخل نہیں۔اور خدا کے حضور وہ قربانیاں پیش کرتی چلی جاتی ہیں۔یہاں تک کہ کبھی کسی خلیفہ وقت کی نظر پڑ جائے یا کسی اور تاریخ لکھنے والے کی نظر پڑ جائے تو وہ چند نمونے دانہ دانہ چن چن کر تاریخ کے صفحات میں محفوظ کر دیتا ہے۔اس سے زیادہ ان کی قربانیوں کی کوئی نمائش نہیں ہے۔اب بھی میں نمائش کی خاطر یہ پیش نہیں کروں گا۔بلکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ کی اگلی نسلوں کی قربانیوں کی روح کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ انکو علم ہو کہ ان کی مائیں کیا تھیں۔ان کی بہنیں کیا تھیں۔ان کی نانیاں دادیاں کیا چیز تھیں۔کس طرح انہوں نے احمدیت کی راہ میں اپنے خون کے قطرے بہائے اور اس کی کھیتی کو اپنے خون سے سیراب کیا۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ یہ مضمون جو شاید ایک دو یا تین سال تک جاری رہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اسلام میں عورت کے مقام کو صحیح سمجھنے میں بھی دنیا کو مدد دے گا اور احمدی خواتین میں بھی ایک نئی خود اعتمادی پیدا ہوگی۔ہماری موجودہ نسلیں بھی پرانی نسلوں کی عظمتوں سے حصہ پائیں گی یا حصہ پانے کے لئے نیا ولولہ پیش کریں گی اور آپ کی قربانیوں سے حصہ پانے کے لئے اور آپ کی تقلید کے لئے اگلی نسلوں میں ولولہ پیدا ہو گا۔اس تمہید کے ساتھ میں چند ایک باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جہاں تک وقف اور وقف کی روح کا تعلق ہے کس طرح احمدی مائیں اپنے بچوں کو وقف کرتی ہیں یا اپنے خاوندوں کو خدا کے حضور پیش کرتی ہیں یا اپنے بیٹوں کو پیش کرتی ہیں یا خود اپنے آپ کو پیش کرتی ہیں۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو حضرت اماں جان ،نصرت جہاں بیگم کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جس رنگ میں آپ کی تربیت فرمائی اور وہ تربیت جس طرح زندگی کا ایک دائمی نقش بن گئی۔اس کا نمونہ ایک خط کے جواب کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جو اس وقت صاحبزادہ محمود احمد کہلاتے تھے۔انہوں نے خلیفہ اسیح الاوّل