اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 263

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات اسی مہ ۲۶۳ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ دشمن کی طرف سے ایسار یلا آتا ہے کہ جان دینے کی خواہش رکھنے والے بھی اس کو سنبھال نہیں سکتے اور ان کے پاؤں اکھڑ جایا کرتے ہیں۔پس ان پر الزام کی صورت میں میں بات نہیں کر رہا، ایک واقعہ آپ کو بتاتا ہوں۔ان سے پیچھے مسلمان خواتین کے خیمے تھے انہوں نے جب یہ دیکھا که مسلمان مجاہدین اپنے خیموں کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں تو ایک محمد مصطفی ﷺ کی سچی غلام عورت نے اپنی ساتھنوں کو کہا کہ تم اپنے خیموں کے ڈنڈے اکھیڑ لو اور ان مردوں کو یہ بتا دو کہ اب تمہارے لئے دو موتوں میں سے ایک لازماً مقدر ہے یا دشمن کے ہاتھوں مارے جاؤ گے اور شہید کہلاؤ گے یا ہمارے ڈنڈوں سے مر کر مردود موت کو قبول کرو گے اب بتاؤ تمہیں کیا کرنا ہے۔یہ آواز جب مردوں کے کانوں تک پہنچی تو اس طرح پلٹے ہیں جس طرح کوئی بھوکا غذا کی طرف کو ٹتا ہے اور اس شان کے ساتھ انہوں نے اس میدان میں جانیں دی ہیں کہ یکسر اس میدان کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔اس ذلّت ناک شکست کو ایک عظیم فتح میں تبدیل کر دیا۔اے احمدی خواتین ! میں تم سے توقع رکھتا ہوں ،خدا کا رسول تم سے توقع رکھتا ہے، اس رسول کا خدا تم سے توقع رکھتا ہے کہ تم اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ مرد تمہیں کیا کہتے ہیں اور ہر اس نیکی کے میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔نئی فتوحات حاصل کرو یہاں تک کہ تمہارے مردوں میں بھی غیرت جاگ اٹھے اور وہ بھی دین کی حمیت میں اور دین کے دفاع میں تم سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔اگر تم ایسا کرو تو ہندوستان چند صدیوں کی بات نہیں چند دھاگوں میں اسلام کے قدموں میں پڑا ہوگا۔اور اس فتح کا سہرا تمہارے سر لکھا جائے گا۔اے احمدی خواتین ! تمہارے سر پر اس کا سہرا ہو گا۔اے احمدی خواتین ! کوئی مرد دولہا اس سہرے کا حقدار نہیں یہ احمدی دو بہنیں محمد مصطفی اللہ کے دین کی خاطر نیکیوں سے بھی ہوئی دولہنیں ہیں جن کے سر اس فتح کا سہرا باندھا جائے گا۔خدا کرے کہ آپ کو بھی یہ سہرا نصیب ہو اور مردوں کو بھی یہ سہرا نصیب ہو۔اس کے بعد اب ہم دعا کر لیتے ہیں۔پھر میں اجازت چاہوں گا۔اب دعا کر لیجئے۔