اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 254
حضرت خلیفہ صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۵۴ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء جس حد تک مجھ سے ممکن ہے اپنے گھر میں بھی اور باہر دوسرے اپنے عزیزوں کو بھی یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ بچوں کو ڈرایا نہ کریں۔بچہ سوتا نہیں ہے یا کسی جگہ جانا چاہتا ہے تو مائیں کہہ دیتی ہیں کہ بھوت آجائیگا۔فلاں چیز تمہیں چمٹ جائے گی۔وقتی طور پر وہ اس بچے سے چھٹکارا حاصل کرتی ہیں اور ہمیشہ کیلئے خوف کا بھوت اُس کو چمٹادیتی ہیں جو پھر کبھی اسکا پیچھا نہیں چھوڑتا۔باہر نکل رہی ہیں۔لمبے عرصہ کیلئے جانے کا ارادہ ہے، لیکن جھوٹ بول دیتی ہیں کہ ہم ابھی آتے ہیں اور بچہ بیچارہ انتظار میں بیٹھارہ جاتا ہے۔ایسے بچے سے بڑے ہو کر سچ کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔پس آپ اپنے گھر میں جس رنگ میں زندگی بسر کر رہی ہوتی ہیں بچہ اس کی اصل تصویر کو دیکھتا ہے۔اس تصویر کو قبول نہیں کرتا جو آپ جعلی عکس کے طور پر اس پر ڈالتی ہیں اور اس پہلو سے کوئی ماں کسی بچے کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔ایک دن کا معاملہ ہو تو کوئی اور بات ہو۔دو دن کا قصہ ہو تو سمجھ میں آجائے۔یہ ساری زندگی کے معاملات ہیں۔ایک بچہ ضرور اپنے ماں باپ کی اصلیت کو سمجھ جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کے دل میں آئندہ ان کا احترام پیدا ہوتا ہے یا احترام کی بجائے بد تمیزی کے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔پس وہ قومیں جن میں پہلی نسلوں اور دوسری نسلوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں ان میں ضروری نہیں کہ اسی قسم کی غلطیاں ہوں۔کچھ نہ کچھ غلطیاں ضرور ہوتی ہیں جن کے نتیجہ میں بچے اس یقین کے ساتھ بڑے ہور ہے ہوتے ہیں کہ یہ دنیا خود غرضی کی دنیا ہے۔اس میں ہر شخص کا جو بس چاہے وہی کرے۔جس پر زور چلے وہ اپنا لے اور اپنی لذتیں ہمارے اپنے ہاتھ میں ہیں ہمیں کسی اور پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں۔اس حالت میں جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو اپنے ماں باپ ان کو ایک بوجھ دکھائی دیتے ہیں ، پرانے زمانے کی چیزیں دکھائی دیتے ہیں جیسے پرانا استعمال شدہ فرنیچر بعض دفعہ نظر کو تکلیف دیتا ہے ویسے ہی ماں باپ ایک پرانے فرنیچر کے طور پر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ایسا معاشرہ جنت سے دور ہٹ رہا ہوتا ہے۔ایسا معاشرہ بہترین زمین ہے جس پر بدترین چیزمیں جڑ پکڑیں اور دن بدن ایسے معاشرے ہلاکت اور تباہی کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔آپ نے عملاً پاک معاشرہ پیدا کرنا ہے اور اس پاک معاشرے کیلئے کسی لمبی چوڑی علمی تحقیق کی ضرورت نہیں۔یہ چھوٹی چھوٹی عام سادہ سی باتیں ہیں۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہی آپ کی تعلیم کے لئے کافی ہے۔ہر اس موقع پر جب آپ کا رابطہ اپنی اولاد سے قائم ہوتا ہے اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ اس پر آج ہی نہیں بلکہ کل کیلئے بھی اثر انداز ہو رہی ہیں تو یقیناً آپ کے طرز عمل میں ایک ذمہ داری کا احساس پیدا ہو گا۔دوسری بات ایسی ہے جس کا عورت سے