اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 241
حضرت خلیفہ المسح الرابع ” کے مستورات سے خطابات ۲۴۱ خطاب ۳۱ راگست ۱۹۹۱ء بچپن ہی سے یہ تاثر ہے کہ اس معاملہ میں عورتیں مردوں کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔مرد غصے سے صاف بات کھلی کھلی کر کے آجاتا ہے بسا اوقات یہ بھول بھی جاتا ہے بتاتا بھی نہیں لیکن کسی عورت نے اگر ڈ کا کر جواب دیا ہو تو گھر آکر ضرور بتاتی ہے اور بڑے فخر سے بتاتی ہے کہ ایسا مزہ آیا۔دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر اس کے دل تک بھی پہنچی ہے ، اس کے دل کے پاتال بھی پہنچی ہے۔فرماتے ہیں ”بسا اوقات تقویٰ کو دور کر کے اس وقت خدا کا خوف نہیں ہوتا ،اس وقت خدا کی محبت کی طلب نہیں ہوتی ، یہ خیال نہیں ہوتا کہ اس بات سے خدا خوش ہوگا یا ناراض ہو گا۔وہ ایک تلخ بات جواباً کہہ دیتا ہے کوئی اور انسان دل میں خوش ہو جاتا ہے کہ میں نے یوں کہا اور ایسا کہا۔حالانکہ وہ بات بُری ہوتی ہے ( اور اس بات کو کہنے سے سننے والا برا بنے یا نہ بنے وہ خود برا بن جاتا ہے۔مجھے اس پر ایک نقل یاد آئی ہے کہ ایک بزرگ کی کسی دنیا دار نے دعوت کی جب وہ بزرگ کھانا کھانے کے لئے تشریف لے گئے تو اس متکبر دنیا دار نے اپنے نوکر کو کہا کہ فلاں تھال لانا ( یعنی فلاں مجمع میں کھانا لگا کر لاؤ ) جو ہم پہلے حج میں لائے تھے اور پھر کہا دوسرا تھال بھی لانا جو ہم دوسرے حج میں لائے تھے اور پھر کہا تیسرے حج والا بھی لیتے آنا۔اس بزرگ نے فرمایا کہ تو بہت ہی قابل رحم ہے ان تین فقروں میں تو نے اپنے تین ہی تجوں کا ستیا ناس کر دیا۔اب حج تو ایک بڑا المسافعل تھا ، اتنی لمبی اس میں اس کو محنت کرنی پڑی ،سفر کی صعوبت اخراجات، گرمیاں تھیں تو شدید تکلیف میں اس نے حج ادا کئے اور پھر وہاں بہت سے ارکان حج ادا کئے کتنا بڑا وزن ہے اس بات کا۔وہ ایک بات کہ وہ تھال لانا جو پہلے حج سے ہم لے کر آئے تھے۔وہ بات ان سب باتوں کے وزن پر غالب آگئی اور آنا فانا اس نے نیکی کے سب اثر کو ہلاک کر دیا۔( ملفوظات جلد اوّل صفحه ۲۸۰) دل سے نکلنے والی بات اثر رکھتی ہے تو کون کہتا ہے کہ بات سے فرق نہیں پڑتا۔بات ہی سے تو سارے فرق پڑتے ہیں کیونکہ بات سے دل کی اندرونی گہری نیکی کا تعلق ہوتا ہے یا اندرونی گہری بدی کا تعلق ہوتا ہے ایسے مزاج کا تعلق ہوتا ہے جو لمبے عرصہ کی بداعمالیوں سے وجود میں آتا ہے یا لمبے عرصہ کی نیکیوں سے وجود میں آتا ہے۔اس کے نتیجہ میں باتوں کے انداز بدل جاتے ہیں۔بعض لوگوں کی باتیں جتنی مرضی لفاظی کریں ، لپائی کریں، ہزار تقریریں کریں اثر سے خالی رہتی ہیں اور گھن آتی ہے۔ایسے لوگوں کی مجلس۔