اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 237
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۳۷ خطاب ۳۱ راگست ۱۹۹۱ء قربانی اور اپنے آپ کے اندر ایک حیرت انگیز انقلابی تبدیلی پیدا کر لینا یہ سارے دل کے معاملات ہیں اس لئے صاحب دل کو تربیت کرنی چاہئے اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ اچھے انداز سے بات کرنی چاہئے۔اگر کوئی بات رد کر دیتا ہے، اگر آگے سے کوئی طعنہ آمیزی سے کام لیتا ہے تو اس کے لئے بھی طرز عمل یہ ہونا چاہئے کہ انسان اس کا دکھ محسوس کرے اور دعا دیتے ہوئے واپس آجائے۔جیسے بعض فقیر بڑے اچھے لگا کرتے تھے اُن کی عادت ہوا کرتی تھی پرانے زمانے میں قادیان میں مجھے یاد ہے بچپن میں بعض فقیروں کو دیکھا کرتا تھا میرے دل میں اُن کے لئے بڑا پیار پیدا ہوتا کسی گھر نے اُن کو دھتکار دیا کہا جاؤ بھاگ جاؤ روٹی نہیں تو کہتے اچھا اللہ تیرا بھلا کرے جو تھا ٹھیک ہے۔تربیت کی راہ میں تو خدا کے رستوں کا ایسا فقیر بنا پڑتا ہے کہ ختی کا کلام بھی کوئی کرتا ہے جواب میں بات سننے کی بجائے شکریہ ادا کرنے کی بجائے ، طعنے دینے شروع کر دیتا ہے تو سر جھکا کے کہیں اچھا اللہ تیرا بھلا کرے۔ہم نے تو دل کے درد کے ساتھ ہمدردی سے نصیحت کی تھی توفیق ملتی ہے تو کرو نہیں ملتی تو ہم اپنا رستہ لیتے ہیں۔بات کہنے کا سلیقہ اب بات کہنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ایک ہی بات مختلف انداز میں کی جائے تو دیکھیں کتنا غلط اثر پڑ جاتا ہے۔میں نے کئی دفعہ سمجھایا ہے، ایک مثال بار بار دی ہے اور اس کے باوجود دلوں میں نہیں بیٹھتی۔میں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر آپ بھو کی بھی ہوں سخت تکلیف میں ہوں اور کوئی شخص آپ کو کہے یہ کھانا ہے زہر مار کر نہیں تو دفع ہو جاؤ تو آپ کہیں گی کہ ہاں میں دفع ہو جاتی ہوں مگر میں اس بد بخت کھانے کو نہیں کھاؤں گی جس کے ساتھ بے عزتی کی جارہی ہے جس کے ساتھ سختی کی جارہی ہے۔با غیرت عورتیں اس موقع پر اُٹھ کر چلی آئیں کہیں گی جاؤ تم اور تمہارا کھانا جہنم میں مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔اور اگر کھانا کھایا بھی ہو اور پیٹ بھرا ہو اور کوئی لجاجت کے ساتھ پیار کے ساتھ بار بار کہتا ہے ذرا چکھ تو لو کچھ میری خاطر تو انسان کا دل نرم پڑ جاتا ہے انسان کہتا ہے اچھا کوئی بات نہیں میں چکھ ہی لیتا ہوں۔بعض دفعہ میری بچیاں جب ڈائٹنگ کرتی ہیں تو مجھے یہی کرنا پڑتا ہے اس قسم کی ڈائٹنگ کا میں بڑا سخت خلاف ہوں کیونکہ رنگ پیلا ہو جاتا ہے ہڈیوں کا رس چوسا جا رہا ہے اور سمارٹ بننے کے شوق میں کھانے بند ہوئے ہیں۔تو میں پھر اُن کی منت سماجت کرتا ہوں کہ میں نے کھایا ہے بہت اچھی چیز ہے ذرا چکھ لو تو وہ